قومی خبریں

امریکہ جنگ میں ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہے، ڈونالڈ ٹرمپ سفارتی حکمت عملی سے ناآشنا: سنجے راؤت

سنجے راؤت نے مغربی ایشیا کی جنگ پر کہا کہ امریکہ ناکام ہو رہا ہے اور ڈونالڈ ٹرمپ سفارتی حکمت عملی نہیں سمجھتے۔ انہوں نے ہندوستان کے کردار کو غیر مؤثر اور بی جے پی پر کراس ووٹنگ کے الزامات بھی عائد کیے

<div class="paragraphs"><p>سنجے راؤت / آئی اے این ایس</p></div>

سنجے راؤت / آئی اے این ایس

 
IANS

نئی دہلی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی، ہندوستان کے کردار اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اس جنگ میں ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہے اور حالات اس کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔

Published: undefined

آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے اور اس پر کسی کا کنٹرول باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ جن طاقتوں نے اس تنازعہ کو جنم دیا، اب وہ خود بھی اس پر قابو نہیں رکھ پا رہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان اس پورے معاملے میں غیر فعال دکھائی دے رہا ہے اور اس کا کردار تقریباً صفر ہو چکا ہے۔

سنجے راؤت نے مزید کہا کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ کو سفارتی حکمت عملی کی بہتر سمجھ ہوتی تو یہ جنگ اس نہج تک نہ پہنچتی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ واضح طور پر جنگ ہار رہا ہے اور اسی وجہ سے وہاں کی قیادت جلدبازی میں فیصلے لے رہی ہے، جو حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

Published: undefined

انہوں نے ریاستی سطح پر ہونے والے انتخابات میں کراس ووٹنگ کے مسئلے پر بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ سنجے راؤت کے مطابق بی جے پی نے مختلف ریاستوں میں اقتدار اور وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ووٹنگ کے رجحانات کو متاثر کیا۔ انہوں نے ہریانہ، بہار اور اوڈیشہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ریاستوں میں کراس ووٹنگ کے پیچھے سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ کارفرما تھا۔

اوڈیشہ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص کو منتخب کروایا گیا جس پر کوئلہ گھوٹالے کا الزام ہے اور جس کے خلاف مقدمات بھی درج ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا۔

Published: undefined

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سنجے راؤت نے بین الاقوامی اور قومی معاملات پر اس طرح کا سخت موقف اختیار کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھا چکے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ نے روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر ہندوستان کو محدود مدت کی رعایت دی تھی۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا تھا کہ اگر کوئی دوسرا ملک یہ طے کرے کہ ہندوستان کب اور کتنا تیل خریدے، تو یہ خودمختاری کے لیے مناسب نہیں ہے۔

سنجے راؤت کے بیانات ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جہاں ان کے تبصروں کو حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined