قومی خبریں

الہ آباد ہائی کورٹ کا یوپی میں تین ماہ کے اندر پنچایت انتخابات کرانے کا حکم

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں پنچایت انتخابات کی کارروائی تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سبکدوش ہونے والے گرام پردھانوں کی بطور منتظمین تقرری برقرار رکھی

الہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
الہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس 

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں تین سطحی پنچایت انتخابات کے انعقاد کے لیے ریاستی حکومت اور ریاستی انتخابی کمیشن کو تین ماہ کے اندر انتخابی عمل مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے گرام پنچایتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد سبکدوش ہونے والے پردھانوں کو منتظم مقرر کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو بھی قانونی قرار دیا۔

جسٹس اجیت کمار اور جسٹس گریما پرساد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بدھ کو متعلقہ درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت کے بعد کھلی عدالت میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ سبکدوش ہونے والے گرام پردھان بطور منتظم کام کرتے رہیں گے۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت اور انتخابی کمیشن کو ہدایت دی کہ مقررہ تین ماہ کی مدت کے اندر پنچایت انتخابات مکمل کرائے جائیں۔

پردھانوں کو منتظم مقرر کرنے کے حکومتی فیصلے اور اس سے متعلق قانونی دفعات کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں مجموعی طور پر 11 درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جن میں چھ مفاد عامہ کی عرضیاں تھیں۔ درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا تھا کہ پنچایت انتخابات وقت پر کرانے اور انتخابی عمل کے لیے واضح مدت مقرر کرنے کی ہدایت دی جائے۔ درخواستوں میں حکومت کے 25 مئی کے حکم کو بھی چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت سبکدوش ہونے والے گرام پردھانوں کو منتظم مقرر کیا گیا تھا۔

درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ پنچایتوں کی مدت ختم ہونے سے پہلے انتخابات مکمل ہونے چاہئیں تھے تاکہ نئی منتخب پنچایتیں بروقت وجود میں آ سکیں۔ سماعت کے دوران دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے ریزرویشن کے تعین کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ او بی سی کمیشن اپنا کام جاری رکھے گا، لیکن انتخابی عمل اس کے کام کی تکمیل سے مشروط نہیں ہوگا۔

عدالت کے مطابق انتخابات موجودہ قواعد اور انتظام کے تحت کرائے جائیں گے اور ریزرویشن سے متعلق 27 فیصد کے ضابطے پر عمل کیا جائے گا۔ انتخابی تاریخوں اور مختلف مراحل کے پروگرام کا تعین ریاستی انتخابی کمیشن کرے گا، جو حکومت کے ساتھ مل کر عدالتی مدت کے اندر ضروری کارروائی مکمل کرے گا۔

پریاگ راج کے امتیاز حسین اور دیگر درخواست گزاروں نے وقت پر انتخابات کرانے کی استدعا کی تھی۔ درخواست میں کمیشن کو انتخابی عمل کے لیے وقت بند پروگرام جاری کرنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی۔

عدالت نے اس سے پہلے انتخابی کمیشن سے حلف نامہ بھی طلب کیا تھا، جس میں یہ واضح کرنے کو کہا گیا کہ آیا وہ آئین کے آرٹیکل 243-ای کے مطابق مقررہ وقت پر انتخابات کرانے کی پوزیشن میں ہے اور مقررہ مدت میں انتخابی عمل مکمل کیوں نہیں کیا جا سکتا۔

تقریباً تین گھنٹے کی سماعت کے بعد بنچ نے منتظمین کی تقرری برقرار رکھتے ہوئے انتخابات کے لیے تین ماہ کی مدت مقرر کر دی۔ فیصلے سے پنچایت انتخابات کے حوالے سے جاری قانونی غیر یقینی صورتحال ختم ہونے کی توقع ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔