قومی خبریں

گھر میں نماز پڑھنے سے روکنے کے معاملے میں بریلی کے ڈی ایم اور ایس ایس پی کو نوٹس، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مانگا جواب

ہائی کورٹ نے بریلی پولیس اور انتظامی سربراہوں کو نوٹس بھیج کر پوچھا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے؟ اس معاملے کی اگلی سماعت 11 مارچ کو ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس

 

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بریلی کے ڈی ایم اور ایس ایس پی انوراگ آریہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔ بریلی کے محمد گنج گاؤں میں 16 جنوری کو ریشما خان کے ذاتی گھر میں کچھ لوگ اجتماعی طور پر نماز پڑھ رہے تھے، جس ہندو خاندانوں کی شکایت کے بعد پولیس نے رکوا دیا تھا۔ جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن کی ڈویژن بنچ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے 12 فروری کو توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔

Published: undefined

عدالت نے حالیہ دنوں میں عیسائی گروپ سے متعلق دیے گئے ایک فیصلہ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ذاتی احاطوں میں عبادت کے لیے حکومت کی اجازت کی ضروت نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ اصول نماز کے معاملے میں بھی نافذ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے عرضی گزار طارق خان کے خلاف کسی بھی قسم کی تعزیری کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 11 مارچ کو ہوگی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ بریلی کے محمد گنج گاؤں میں ریشما خان نے اپنے گھر کے اندر لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی۔ پولیس کے ذریعہ اس پر روک لگائے جانے کو عدالت نے شخص کے ذاتی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی شخص اپنے ذاتی احاطے میں مذہبی سرگرمی کو انجام دے رہا ہے تو اسے روکنا عدالت کے سابقہ احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

Published: undefined

ڈویژن بنچ نے ’مراناتھ فل گاسپل منسٹریز‘ اور ’ایمانوئل گریس چیریٹیبل ٹرسٹ‘ کی عرضیوں پر دیے گئے فیصلے کا ذکر کیا۔ اس فیصلے میں عدالت نے واضح کیا تھا کہ ذاتی مقامات پر بغیر اجازت کے مذہبی سرگرمی انجام دیے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ بریلی انتظامیہ نے اس قانونی صورتحال کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے افسران کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا پڑا۔

Published: undefined

ہائی کورٹ نے بریلی پولیس اور انتظامی سربراہوں کو نوٹس بھیج کر پوچھا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ عرضی گزار کے خلاف فی الحال کوئی دباؤ والی کارروائی نہ کی جائے۔ 11 مارچ کو ہونے والی آئندہ سماعت میں یہ طے ہوگا کہ انتظامیہ نے عدالت کے حکم کی تعمیل کیوں نہیں کی تھی۔ 

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined