قومی خبریں

شنکراچاریہ کے خلاف نازیبا کلمات لفظی تشدد اور گناہ، اکھلیش یادو کا سی ایم یوگی پر حملہ

اکھلیش یادو نے شنکراچاریہ سے متعلق بیان پر سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسے لفظی تشدد اور گناہ قرار دیتے ہوئے مہاکمبھ اموات اور معاوضے کے معاملے پر بھی حکومت کو گھیرا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے شنکراچاریہ تنازع کو لے کر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شنکراچاریہ کے بارے میں سخت نازیبا کلمات کہنا لفظی تشدد ہے اور یہ گناہ بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا بیان دینے والے کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی برابر کے قصوروار ہیں جو خوشامد میں میزیں تھپتھپاتے رہے۔

Published: undefined

سوامی اویمکتیشورانند سے متعلق سی ایم یوگی کے اس بیان کہ ہر شخص شنکراچاریہ نہیں ہوسکتا، پر ردعمل دیتے ہوئے اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طنزیہ تبصرہ کیا کہ کوئی کیسا بھی چولا پہن لے، اس کی زبان اس کی حقیقت ظاہر کر دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین اسمبلی جب ایوان سے باہر نکل کر عوام کے درمیان جائیں گے تو عوام سڑک پر ہی ان کا ایوان لگا دے گی۔ اکھلیش یادو نے مہاکمبھ کی اموات کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نے صحیح اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ نقد معاوضہ دے کر اس میں بھی بدعنوانی کی گنجائش نکالی گئی اور جن متاثرین تک معاوضہ نہیں پہنچا، ان کی رقم کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

Published: undefined

سی ایم یوگی کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے خلاف درج مقدمات ہٹواتے ہیں، انہیں کسی اور کے مذہبی منصب پر سوال اٹھانے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انسان کے بجائے انا بولتی ہے تو اقدار متاثر ہوتی ہیں اور ایسا شخص سماج میں اپنا احترام کھو دیتا ہے۔

اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ متنازع فلم کو بغیر نام بدلے ریلیز کرنے اور اسے ٹیکس فری کرنے کی بات بھی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخاب میں متعلقہ سماج ہر ووٹ کے ذریعے اس کا جواب دے گا اور حکومت کو بدل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ شنکراچاریہ کے بارے میں دیا گیا بیان ایوان کی کارروائی میں درج ہو چکا ہے اور اس کی مذمت کے لیے الفاظ بھی ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined