
تصویر بشکریہ آئی اے این ایس
سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے انڈین نیشنل کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی کے ساتھ وزیر اعظم رہائش گاہ پر احتجاج کی تین تصاویر شیئر کیں۔ ان تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ نے لکھا کہ وہ حراست کہاں ہے جو ہمت کو قید کر دیتی ہے؟ ایس پی سربراہ کی طرف سے شیئر کی گئی تین تصاویر میں راہل گاندھی سمیت کئی لیڈروں کو احتجاجی مقام پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اکھلیش کو راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا۔ اکھلیش کو بھی 21 جولائی کی رات 10 بجے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ایس پی نے بتایا کہ اکھلیش یادو کو دہلی پولیس نے رہا کر دیا ہے۔ وہ سماج وادی پارٹی کے تمام ساتھیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنا احتجاج ابھی ختم کریں۔ طلبہ کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، پارٹی جنرل سکریٹری اور وائناڈ کی ایم پی پرینکا گاندھی ، اور کئی دیگر کانگریس لیڈروں نے منگل کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب طلباء کے خلاف پولیس کارروائی کے خلاف دھرنا دیا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ احتجاجی مقام پر پہنچ کر اکھلیش نے طلبا کے مسائل حل کرنے اور راہل گاندھی کے مطالبات ماننے کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ کی راہل گاندھی سے ملاقات اور بات کرنے کے بعد جب دھرنا ختم نہیں ہوا تو پولیس نے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر کئی لیڈروں کو "زبردستی" حراست میں لے لیا اور انہیں ایک بس میں لے گئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔