قومی خبریں

دہلی میں پی ایم 2.5 کی خطرناک سطح، موسمی اثرات الگ کرنے پر بھی اے کیو آئی گزشتہ سال سے زیادہ: اجے ماکن

اجے ماکن نے کہا ہے کہ دہلی کے 40 میں سے 37 مراکز پر پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے زیادہ ہے۔ موسمی اثرات الگ کرنے پر اے کیو آئی گزشتہ سال سے 6 پوائنٹس زیادہ ہے

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کے&nbsp;سینئر لیڈر اجے&nbsp; ماکن / تصویر ویڈیو گریب</p></div>

کانگریس کے سینئر لیڈر اجے  ماکن / تصویر ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق تازہ تجزیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے 40 میں سے 37 فضائی نگرانی مراکز پر پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق موسمی اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد بھی دہلی کی حقیقی فضائی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں بتایا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق دہلی کا اوسط اے کیو آئی 84 دکھائی دیتا ہے، تاہم موسمی اثرات کو الگ کرنے کے بعد یہی اے کیو آئی بڑھ کر 91 ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ بظاہر نظر آنے والی بہتری کے باوجود زمین پر موجود حقیقی فضائی آلودگی زیادہ ہے۔

اجے ماکن نے کہا کہ کاربن مونو آکسائیڈ کی سطح بھی گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے، تاہم اسے انہوں نے اضافی حوالہ قرار دیا اور موجودہ جائزے کے لیے پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کو زیادہ قابل اعتماد بنیاد بتایا۔ ان کے مطابق موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد دہلی کا اے کیو آئی گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 پوائنٹس زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم 10، پی ایم 2.5 اور کاربن مونو آکسائیڈ اس وقت فضائی آلودگی بڑھانے والے اہم عناصر میں شامل ہیں، جبکہ سات میں سے 5 آلودگی پھیلانے والے عناصر کی صورتحال یا تو جوں کی توں ہے یا مزید خراب ہوئی ہے۔

اجے ماکن نے دعویٰ کیا کہ مئی سے اب تک دستیاب اعداد و شمار میں ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب دہلی کی حقیقی پی ایم 10 سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہی ہو۔ ان کے مطابق یہ مسلسل 73 دن کا رجحان ہے، جبکہ ایک دن کا اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دنوں کے دوران پی ایم 10 میں اوسط فرق تقریباً 14 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہا اور رواں سال کے 222 دنوں میں سے 149 دن ایسے رہے جب یہ سطح گزشتہ سال سے زیادہ تھی۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے اس اضافے کی رفتار کچھ کم ضرور ہوئی ہے، لیکن بنیادی بگاڑ برقرار ہے۔

اجے ماکن کے مطابق گزشتہ سال کے اعداد و شمار دستیاب رکھنے والے 28 فضائی نگرانی مراکز میں موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد بھی تمام مراکز کی صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں خراب رہی، جبکہ اوسط اے کیو آئی 6 پوائنٹس زیادہ تھا۔ وزیرپور سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا، جہاں موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد اے کیو آئی 130 اور پی ایم 10 کی سطح 143.6 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ ہوئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی حد سے 3.2 گنا زیادہ ہے۔

اجے ماکن نے حکومت سے تعمیراتی دھول اور سڑکوں کی گرد سمیت پی ایم 10 کے ذرائع، جبکہ صنعتوں، گاڑیوں اور حیاتیاتی ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والی پی ایم 2.5 آلودگی پر فوری کارروائی، وزیرپور میں مقامی ذرائع کے خلاف اقدامات اور صحت سے متعلق انتباہ جاری کرنے، اور اے کیو آئی کے اہداف کو عالمی ادارۂ صحت کے معیارات کے مطابق مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔