قومی خبریں

موسمی اثرات الگ کرنے پر دہلی میں پی ایم 10 گزشتہ سال سے 14 فیصد زیادہ، سخت اقدامات کرے حکومت: اجے ماکن

اجے ماکن نے کہا کہ موسمی اثرات الگ کرنے پر دہلی میں پی ایم 10 گزشتہ سال سے 14 فیصد اور پی ایم 2.5 آٹھ فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے آلودگی پر قابو پانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / تصویر: قومی آواز، ویپن</p></div>

اجے ماکن / تصویر: قومی آواز، ویپن

 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے مسئلے پر ایک بار پھر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موسمی عوامل کے اثرات الگ کرکے کیے گئے تجزیے کے مطابق شہر میں حقیقی فضائی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال آلودگی پر قابو پانے میں حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے اور فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔

Published: undefined

اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تجزیہ 2 جولائی صبح 10 بجے سے 3 جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نتائج کا موازنہ گزشتہ سال 26 جون سے 10 جولائی کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا تاکہ ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ کا اثر نتائج پر نہ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے فضائی معیار کے اشاریے کے مطابق دہلی کا اوسط فضائی معیار اشاریہ 109 ریکارڈ کیا گیا، تاہم موسمی اثرات کو الگ کرکے دیکھا جائے تو فضائی آلودگی کی حقیقی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ نظر آتی ہے۔

Published: undefined

اجے ماکن کے مطابق بین الاقوامی تحقیق میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے اعداد و شمار کی پیمائش سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے باعث ان کے درج شدہ اعداد و شمار میں 80 فیصد سے زیادہ فرق آ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کا تجزیہ بنیادی طور پر پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے، جنہیں نسبتاً زیادہ قابل اعتماد قرار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ موسمی اثرات الگ کرنے پر پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ پی ایم 2.5 کی سطح بھی آٹھ فیصد زیادہ رہی۔ ان کے مطابق یہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ فضائی آلودگی میں بہتری کا تاثر صرف موسمی حالات کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا بلکہ حقیقی آلودگی اب بھی تشویش ناک سطح پر موجود ہے۔

Published: undefined

اجے ماکن نے کہا کہ اس درجے کی آلودہ ہوا دمے اور دل کے مریضوں، چھوٹے بچوں اور بزرگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی دھول جیسے پی ایم 10 کے بڑے ذرائع کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ فضائی آلودگی پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکے۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ شہر کے پوسا علاقے، جہاں فضائی معیار سب سے زیادہ خراب ریکارڈ کیا گیا، وہاں مقامی سطح پر فوری اقدامات کیے جائیں اور شہریوں کے لیے صحت سے متعلق انتباہ جاری کیا جائے۔ اس کے ساتھ انہوں نے عالمی ادارۂ صحت کے معیارات کے مطابق فضائی معیار کے اہداف مزید سخت بنانے کی بھی اپیل کی۔

اجے ماکن نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں‘ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہلی کے شہریوں کو صاف اور محفوظ ہوا فراہم کرنے کے لیے مؤثر اور جوابدہ نظام قائم کیا جائے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined