
ایئر انڈیا ایکسپریس کا طیارہ / آئی اے این ایس
ایئر انڈیا مسافر طیارہ کو ایک بار پھر تکنیکی خامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی وجہ سے کوئی خوفناک حادثہ ہو سکتا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارہ میں پرواز کے دوران خراب آ گئی، جس کی وجہ سے اسے واپس لوٹنا پڑا۔ واقعہ ایئر انڈیا ایکسپریس کی فلائٹ (بوئنگ 737) کے ساتھ پیش آیا ہے، جس نے کوچی سے ابوظبی کے لیے پرواز بھری تھی۔ کافی اونچائی پر پہنچنے کے بعد عملہ کے اہلکاروں کو پتہ چلا کہ انجن-1 میں تیل کی مقدار تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ جب تیل کا دباؤ ڈینجر زون میں پہنچ گیا تو انھوں نے انجن کو بند کر دیا اور طیارہ کو درمیان راستہ سے ہی واپس لوٹنا پڑا۔
میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق فلائٹ کوچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حفاظت کے ساتھ لینڈ کر گئی ہے۔ حالانکہ طیارہ میں سوار مسافروں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہونے دیا گیا کہ حالات کتنے سنگین ہو گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرواز بھرنے کے تقریباً 50 منٹ بعد اور 36 ہزار فیٹ کی اونچائی پر اڑتے وقت پائلٹ اور شریک پائلٹ نے اخذ کیا کہ انجن-1 میں تیل کی مقدار تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اس صورت حال میں عملہ کے اہلکاروں نے ’فورڈیک اسسمنٹ‘ کیا۔ تیل کی سطح میں لگاتار گراوٹ کو دیکھتے ہوئے انھوں نے ابوظبی جانے کا ارادہ چھوڑ کر کوچی واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔
صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فلائٹ کمانڈر نے ہائی فریکوئنسی پر ممبئی ریڈیو سے رابطہ کیا اور ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) کو بتایا کہ فلائٹ کوچی واپس لوٹ رہی ہے۔ فلائٹ کا راستہ بدلنے کے دوران سیکورٹی کے اسٹینڈرڈ اصولوں پر عمل کیا گیا۔ راستہ بدلنے کے پورے وقت دونوں پائلٹ انجن کے پیرامیٹر پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے اور کسی بھی ایمرجنسی حالت کے لیے تیار تھے۔
بتایا جا رہا ہے کہ فلائٹ کو واپسی کے لیے موڑنے کے تقریباً 45 منٹ بعد انجن-1 کے تیل کے دباؤ میں اتار چڑھاؤ شروع ہو گیا اور کاک پٹ گیج پر یہ ریڈ زون میں پہنچ گیا، جو ڈینجر رینج میں گراوٹ کا اشارہ تھا۔ اس کے بعد عملہ کے اہلکاروں نے نان-نارمل چیک لسٹ (این این سی) پر عمل کیا اور پھر انجن-1 کو بند کر دیا۔
قابل ذکر ہے کہ زیادہ وزن والے بوئنگ 737 طیارہ کو ایک انجن پر اتارنا بہت مشکل اور جوکھم بھرا کام ہوتا ہے، لیکن عملہ کے اہلکاروں نے اسے آسانی کے ساتھ پورا کر لیا۔ مسافروں کو کاک پٹ میں ہوئے واقعہ کی سنگینی کا پتہ تک نہیں چلا۔ فکر انگیز بات یہ ہے کہ انڈین ایئرلائنس کمپنی میں تکنیکی وجوہات سے راستہ بدلنا تقریباً ہر ہفتہ پیش آنے والا واقعہ بن گیا ہے۔ یہ تازہ واقعہ ایئر انڈیا کی پھوکیت-دہلی فلائٹ پر ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹیگیشن بیورو کی ابتدائی رپورٹ آنے کے کچھ دنوں بعد پیش آیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایئر بس کے تکنیکی ماہرین نے تحقیقاتی ٹیم کی موجودگی میں 3 دنوں تک متعلقہ طیارہ کی جانچ کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔