قومی خبریں

مستقبل کی جنگوں میں اے آئی، سائبر اور خلائی ٹیکنالوجی فیصلہ کن ہوں گی: چیف آف ڈیفنس اسٹاف

سی ڈی ایس نے کہا ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں لڑی جائیں گی بلکہ مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیت، معلوماتی جنگ، خلائی ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلے کامیابی کی کنجی ہوں گے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 
IANS

نئی دہلی: چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل این ایس راجا سبرامنی نے کہا ہے کہ مستقبل کی جنگیں روایتی میدان جنگ تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سائبر صلاحیت، خودکار نظام، معلوماتی جنگ، خلائی ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی جیسے جدید عوامل ان کی سمت اور نتائج کا تعین کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی سلامتی کے ماحول میں ہندوستانی مسلح افواج کو نئی ٹیکنالوجی اور اختراعات کو اپنی عسکری حکمت عملی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔

سی ڈی ایس پیر کو نئی دہلی کے مانیک شا سینٹر میں منعقدہ چوتھے سہ سروسز فیوچر وارفیئر کورس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جنگ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور جدید فوجی کارروائیوں میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں صرف روایتی عسکری طاقت کافی نہیں ہوگی بلکہ تکنیکی برتری اور جدید اختراعات ہی مستقبل میں کامیابی کی بنیاد بنیں گی۔

جنرل راجا سبرامنی نے کہا کہ مستقبل کی جنگوں میں اے آئی پر مبنی نظام، سائبر سکیورٹی، خودکار ہتھیاروں کے نظام، معلوماتی جنگ، خلائی صلاحیتیں اور ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی فیصلہ سازی انتہائی اہم کردار ادا کریں گی۔ اس لیے ہندوستانی مسلح افواج کو ان تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ ہر قسم کے آپریشنل ماحول میں مؤثر انداز میں جواب دینے کے قابل رہیں۔

انہوں نے تینوں افواج کے درمیان مشترکہ کارروائی اور باہمی انضمام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کو مؤثر بنانے کے لیے فوج، دفاعی صنعت، تعلیمی اداروں اور تحقیقی برادری کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دفاعی ٹیکنالوجیز کی تیز رفتار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تمام متعلقہ ادارے مشترکہ وژن کے ساتھ مل کر کام کریں۔

چار ہفتوں پر مشتمل یہ کورس مستقبل کی جنگوں کے بدلتے ہوئے تصورات اور جدید عسکری حکمت عملیوں پر مرکوز ہے۔ اس کا انعقاد ہیڈکوارٹرز انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف (ایچ کیو آئی ڈی ایس) کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جس میں بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سینئر افسران شریک ہیں۔

اس کے علاوہ مختلف سرکاری محکموں، دفاعی صنعت، تعلیمی اداروں اور تزویراتی مطالعات سے وابستہ تنظیموں کے نمائندے بھی اس تربیتی پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں۔ کورس کے دوران عالمی جغرافیائی سیاسی منظرنامے، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ادراکی جنگ، سائبر جنگ، کثیر جہتی فوجی کارروائیاں، ممکنہ جنگی منظرناموں کی تیاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی جنگی حکمت عملی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق اس تربیتی پروگرام کا مقصد مستقبل کے سلامتی کے ماحول کو بہتر انداز میں سمجھنا، نئی فوجی حکمت عملیوں کا مطالعہ کرنا اور تینوں افواج سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا ہے، تاکہ ہندوستان کی دفاعی تیاریوں کو بدلتے ہوئے عالمی چیلنجز کے مطابق مزید مؤثر اور جدید بنایا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔