
منیش سسودیا، تصویر آئی اے این ایس
آبکاری پالیسی گھوٹالہ معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ میں جاری سماعت سے اروند کیجریوال کے بعد اب منیش سسودیا نے بھی خود کو الگ کر لیا ہے۔ منیش سسودیا نے جسٹس سورن کانتا شرما کو اس بارے میں خط لکھ کر جانکاری دی۔ کیجریوال کی طرح سسودیا نے بھی جسٹس سورن کانتا شرما کی عدالت میں خود یا وکیل کے پیش نہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
Published: undefined
منیش سسودیا نے خط میں لکھا ہے کہ ’’میری طرف سے بھی کوئی وکیل پیش نہیں ہوگا۔ آپ کے بچوں کا مستقبل سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ہاتھوں میں ہے۔ ایسے میں مجھے انصاف کی امید نہیں ہے۔ ستیہ گرہ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔‘‘
Published: undefined
دوسری طرف سی بی آئی کی اپیل عرضی پر جسٹس سورن کانتا شرما کی جانب سے سماعت کیے جانے پر اعتراض ظاہر کرنے کے بعد کیجریوال نے فیصلہ کیا کہ وہ آگے اس معاملے میں نہ تو خود پیش ہوں گے اور نہ ہی ان کے کوئی وکیل جرح کریں گے۔ کیجریوال نے جسٹس سورن کانتا شرما کو 4 صفحات کا خط لکھ کر یہ معلومات دی۔ خط میں انہوں نے کہا تھا کہ میں ضمیر کی آواز سن کر یہ فیصلہ لے رہا ہوں۔ میں اس کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے میرے قانونی مفادات کو نقصان پہنچے، لیکن میں اس کے لیے تیار ہوں۔ کیجریوال نے واضح کیا کہ وہ جسٹس شرما کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خط میں عدالت میں بحث کے دوران دی گئی دلیل دہراتے ہوئے کہا کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
Published: undefined
خط میں کیجریوال نے مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کے اصول کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ صرف اسی معاملے تک محدود ہے۔ انہوں نے جسٹس سجوئے پال اور جسٹس اتل شری دھرن کی مثال دی، جنہوں نے اپنے خاندان کے ارکان کے وکالت کرنے کی وجہ سے ہائی کورٹ سے تبادلے کی درخواست کی تھی۔ کیجریوال نے لکھا کہ جسٹس شرما کے تبصروں سے ان کی عرضی کو عدالتی اور ادارہ جاتی توہین کے طور پر لیا گیا، جس کے بعد غیر جانب دار سماعت کی امید نہیں رہی ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں سی بی آئی نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے، جس میں آبکاری گھوٹالے میں کیجریوال سمیت تمام 23 ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔ اس اپیل عرضی پر جسٹس سورن کانتا شرما سماعت کر رہی ہیں۔ کیجریوال نے 13 اپریل کو ذاتی طور پر پیش ہو کر جسٹس شرما سے خود کو معاملے سے الگ کرنے کی درخواست کی تھی۔ 20 اپریل کو عدالت نے ان کی اس عرضی کو خارج کر دیا اور تبصرہ کیا کہ کسی سیاست دان کو عدلیہ پر عدم اعتماد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس فیصلے کے بعد کیجریوال نے خط لکھ کر کہا کہ اب انہیں یقین نہیں رہا کہ جسٹس شرما غیر جانب دار طریقے سے سماعت کر پائیں گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined