قومی خبریں

ابھیشیک بنرجی کے بعد رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی پر بھی ہوا حملہ، سر میں آئی چوٹ

ایک روز قبل ٹی ایم سی لیڈر ابھشیک بنرجی پر مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے سونارپور میں حملہ ہوا تھا، جہاں سینکڑوں لوگوں نے انہیں گھیر کر ان پر انڈے اور پتھر پھینکے۔

<div class="paragraphs"><p>کلیان بنرجی (ویڈیو گریب)</p></div>

کلیان بنرجی (ویڈیو گریب)

 

مغربی بنگال کے ضلع ہگلی میں واقع چنڈی تلا پولیس اسٹیشن کے سامنے آج اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب ترنمول کانگریس کلیان بنرجی کی قیادت میں اپنے گرفتار لیڈران اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ لے کر میمورنڈم دینے پہنچی۔ ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق مظاہرین نے انہیں گھیر لیا، کالے جھنڈے دکھائے، نعرے بازی کی اور مبینہ طور پر ان پر حملہ کر دیا گیا۔ حالانکہ اس دوران سیکورٹی اہلکاروں اور ساتھیوں نے کلیان بنرجی کو بچانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنا سر پکڑ کر سڑک پر گر گئے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے موقع پر بھاری پولیس فورس اور مرکزی سیکورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا۔

Published: undefined

الزام ہے کہ مظاہرے کے دوران دور سے پتھر پھینکا گیا۔ یہ پتھر کلیان بنرجی کے سر پر لگا، جس سے چوٹ کھا کر وہ زمین پر گر پڑے۔ ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ نے اس حملے کا الزام بی جے پی کارکنوں پر عائد کیا ہے۔ اس حملے کے دوران موقع پر سیکورٹی اہلکار تعینات تھے۔ انہوں نے کلیان بنرجی کو سہارا دینے کی کوشش بھی کی، لیکن سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ نیچے گر گئے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ ایک روز قبل ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے سونارپور میں اس وقت ہوا تھا جب وہ انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد کے متاثرین میں سے ایک سے ملنے کے لیے اس علاقے میں گئے تھے، متاثرہ سنجو کرماکر بھی ٹی ایم سی کے کارکن تھے۔ اس دوران ابھیشیک بنرجی پر سینکڑوں لوگوں نے حملہ کر دیا اور ان پر انڈے اور پتھر پھینکے۔ واقعہ کی ویڈیو میں ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کرکٹ ہیلمیٹ پہنے ہوئے نظر آ رہے ہیں، ان کے ساتھ ان کے ساتھی بھی ہیں اور درجنوں لوگ ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ بھیڑ نے ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے ابھیشیک بنرجی کو وہاں سے بچا کر باہر نکالا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined