قومی خبریں

اڈانی گروپ پر خفیہ طور پر اپنے ہی شیئر خریدنے کا الزام، حصص میں بھاری گراوٹ، وضاحتی بیان جاری

او سی سی آر بی (آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ) کی تحقیقات اور دی گارڈین اور فنانشل ٹائمز کے ساتھ شیئر کیے گئے دستاویزات نے اڈانی اور سیبی پر نئے سوالات اٹھائے ہیں

<div class="paragraphs"><p>اڈانی گروپ / Getty Images</p></div>

اڈانی گروپ / Getty Images

 
Prakash Singh

نئی دہلی: گوتم اڈانی کی قیادت والے اڈانی گروپ پر تازہ الزامات عائد کئے گئے ہیں، جس کے بعد گروپ کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ ایک میڈیا گروپ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اڈانی گروپ نے خفیہ طور پر اپنے ہی شیئرز خرید کر اسٹاک ایکسچینج میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ ان الزامات کے بعد اڈانی گروپ نے آناً فاناً میں وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اسے غیر ملکی تنظیموں کی سازش قرار دیا ہے!

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق گوتم اڈانی کے بھائی ونود اڈانی کے قریبی لوگوں اور ساتھیوں نے خفیہ طور پر اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں حصص خریدے تھے۔ اگرچہ، اڈانی گروپ اس سال مارچ تک گروپ میں ونود اڈانی کے فعال کردار سے انکار کرتا رہا ہے۔ تاہم جو دستاویزات سامنے آئی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروپ نے اس خریداری کو حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے لیے استعمال کیا۔

Published: undefined

آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کی یہ رپورٹ انگریزی اخبارات گارڈین اور فنانشل ٹائمز کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔ اس نے ماریشس میں اڈانی گروپ کے ذریعہ کئے گئے لین دین کے بارے میں انکشاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گروپ کمپنیوں نے 2013 سے 2018 کے درمیان خفیہ طور پر اپنے شیئرز خریدے۔

Published: undefined

غیر منافع بخش میڈیا تنظیم او سی سی آر پی کا دعویٰ ہے کہ اس نے ماریشس کے ذریعے روٹ شدہ لین دین اور اڈانی گروپ کے اندرونی خط و کتابت کو دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم از کم دو معاملات ایسے ہیں جہاں سرمایہ کاروں نے غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے اڈانی گروپ کے شیئرز خریدے اور بیچے ہیں۔

Published: undefined

او سی سی آر پی کی رپورٹ میں دو سرمایہ کاروں، ناصر علی شعبان اہلی اور چانگ چنگ لنگ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دونوں اڈانی خاندان کے پرانے کاروباری شراکت دار ہیں۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق او سی سی آر پی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چانگ اور اہلی کی سرمایہ کاری کی رقم اڈانی خاندان نے دی تھی لیکن رپورٹنگ اور دستاویزات سے یہ واضح ہے کہ اڈانی گروپ میں ان کی سرمایہ کاری اڈانی فیملی کے ساتھ مل کر کی گئی۔ او سی سی آر پی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس کو خلاف ورزی تصور کیا جائے گا؟ اور جواب کا فیصلہ تب ہو گا جب یہ معلوم ہو گا کہ اہلی اور چانگ پروموٹرز کی طرف سے کام کر رہے ہیں یا نہیں!

Published: undefined

اہلی اور چانگ نے فوری طور پر او سی سی آر پی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دی گارڈین کے رپورٹر کے ساتھ ایک انٹرویو میں او سی سی آر پی نے کہا کہ چانگ نے کہا کہ اسے اڈانی گروپ کے حصص کے خفیہ طور پر خریدے جانے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

ادھر اڈانی گروپ نے ایک بیان جاری کرکے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ گروپ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ جارج سوروس کی حمایت یافتہ تنظیموں کا ہاتھ ہے اور غیر ملکی میڈیا کا ایک حصہ بھی ہنڈن برگ رپورٹ کے جنکس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اس کی حمایت کر رہا ہے۔

Published: undefined

اڈانی گروپ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جو دعوے ان معاملات پر مبنی ہیں جو ایک دہائی قبل بند کر دیے گئے تھے۔ گروپ نے کہا ہے کہ اس وقت اوور انوائسنگ، بیرون ملک رقوم کی منتقلی، متعلقہ فریق کے لین دین اور ایف پی آئی کے ذریعے سرمایہ کاری کے الزامات کی چھان بین کی گئی۔ ایک آزاد فیصلہ کرنے والی اتھارٹی اور اپیلٹ ٹربیونل نے تصدیق کی تھی کہ کوئی زائد قیمت نہیں تھی اور لین دین قوانین کے مطابق تھے۔ مارچ 2023 میں سپریم کورٹ نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا۔ اس لیے ان الزامات کا کوئی جواز یا بنیاد نہیں ہے۔‘‘

Published: undefined

خیال رہے کہ جنوری کے شروع میں امریکی شارٹ سیلنگ فرم ہنڈنبرگ ریسرچ نے اڈانی گروپ کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ اس میں اڈانی گروپ پر حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔ اڈانی گروپ نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ قوانین پر عمل کیا ہے لیکن اس رپورٹ کی وجہ سے اڈانی گروپ کے شیئرز میں زبردست گراوٹ آئی اور اس کی مارکیٹ کیپ 150 بلین ڈالر تک کم ہو گئی۔ تاہم، حالی میں گروپ کے حصص میں تیزی آئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined