قومی خبریں

ابھیشیک بنرجی نے سی آئی ڈی کو بھیجا جواب، دفتر میں پیش ہونے کے لیے مانگا وقت

ابھیشیک بنرجی نے اپنے پیغام میں سی آئی ڈی کو پیر کے روز دہلی میں اپنی موجودگی کے بارے میں بتایا اور 10 جون کو کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل جج ویکیشن بنچ میں اپنی عرضی پر ہونے والی اہم سماعت کا بھی ذکر کیا۔

<div class="paragraphs"><p>ابھشیک بنرجی، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

ابھشیک بنرجی، تصویر آئی اے این ایس

 

مغربی بنگال پولیس کی سی آئی ڈی کے نوٹس پر ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے اپنا جواب بھیجا ہے۔ انہوں نے ’سگنیچر مسمیچ‘ کے معاملے میں پوچھ تاچھ کے لیے جنوبی کولکاتہ واقع سی آئی ڈی دفتر میں پیش ہونے کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ تب درج کیا گیا تھا جب ترنمول کے کچھ اراکین اسمبلی نے شکایت کی تھی کہ مغربی بنگال اسمبلی میں جمع کرائے گئے سرکاری دستاویزات پر کئی اراکین اسمبلی کے جعلی دستخط کیے گئے تھے۔

Published: undefined

یکم جون کو سی آئی ڈی دفتر میں پیش نہ ہو پانے کے بعد مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو ریاست کی تحقیقاتی ایجنسی نے ایک نیا نوٹس بھیج کر پیر کو دوپہر تک پیش ہونے کو کہا تھا۔ ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق ریاستی پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ ہفتہ کو یہ واضح ہو گیا تھا کہ ابھیشیک بنرجی سی آئی ڈی دفتر نہیں آئیں گے، کیونکہ وہ دہلی کے لیے نکل چکے تھے۔ حالانکہ پیر کو انہوں نے سی آئی ڈی کو ایک باضابطہ پیغام بھیج کر پیش ہونے کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کیا ہے۔

Published: undefined

ریاستی پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ ابھیشیک بنرجی نے اپنے پیغام میں سی آئی ڈی کو پیر کے روز دہلی میں اپنی موجودگی کے بارے میں بتایا اور 10 جون کو کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل جج ویکیشن بنچ میں اپنی عرضی پر ہونے والی اہم سماعت کا بھی ذکر کیا۔ اس عرضی میں سی آئی ڈی کے سمن کو چیلنج کیا گیا ہے اور اس معاملے میں گرفتاری سمیت کسی بھی سخت کارروائی سے تحفظ طلب کیا گیا ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے جب ابھیشیک بنرجی نے سی آئی ڈی کے سمن کو چیلنج کرنے اور تحفظ کے مطالبے کو لے کر کلکتہ ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا، تو انہوں نے معاملے کی جلد سماعت (فاسٹ ٹریک ہیئرنگ) کے لیے بھی عرضی داخل کی تھی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined