
اروند کیرجیوال۔ ویڈیو گریب/یوٹیوب
عام آدمی پارٹی نے اتوار کو دہلی میں جھگیوں کے خلاف چل رہی بلڈوزر کارروائی کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے تمام بڑے رہنما اروند کیجریوال، منیش سسودیا، سوربھ بھاردواج، سنجے سنگھ شامل ہوئے۔ اس دوران اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت کو جم کر اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔
Published: undefined
اروند کیجریوال نے کہا، ’’بی جے پی کی حکومت نے جھگیاں توڑ کر لوگوں کی زندگی برباد کر دی، جو جھگی میں رہتے ہیں، وہ آس پاس ہی نوکری کرتے ہیں، لیکن جھگی ٹوٹنے سے روزگار روزگار چلا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک طرح سے آپ کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا ہے۔‘‘
Published: undefined
کیجریوال نے آگے کہا، ’’انتخاب کے وقت وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ جہاں جھگی، وہاں مکان...لیکن اس کا مطلب یہ تھا کہ وہاں جھگی، وہاں میدان... مودی کی گارنٹی فرضی نکلی ہے۔ مودی کی گارنٹی جھوٹی ہے۔ انتخاب سے پہلے ان کے رہنما آپ کے گھروں میں آکر سوتے تھے۔ میں نے کہا تھا کہ ان کے رہنما آپ کی جھگی دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
کیجریوال نے سوال کیا کہ اگر سارے غریبوں کی جھگیاں توڑ دی اور انہیں بھگا دیا تو آپ کا کام کیسے چلے گا۔ کھانا بنانے سے لے کر ڈرائیور، سیکوریٹی گارڈ، آٹو ڈرائیور، اخبار والا اور دودھ والا تک جھگی سے آتے ہیں۔ کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی والوں کا منصوبہ سبھی جھگیوں کو توڑنے کا ہے۔ دہلی میں 40 لاکھ لوگ جھگیوں میں رہتے ہیں، سبھی لوگ یکجا ہو جاؤ، جس دن آپ سڑک پر آ گئے تو ان کی مشکلیں بڑھ جائیں گی۔
Published: undefined
کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کے 5 سال کے بعد دہلی 50 سال پیچھے چلی جائے گی۔ یہ پارٹی صرف امیروں کے لیے کام کرتی ہے جبکہ عام آدمی پارٹی غریبوں کی پارٹی ہے اور اپنے 10 سال کی مدت کار میں ہم نے دہلی کے اسکول ٹھیک کیے، محلہ کلینک بنائے، بجلی سستی کی۔
Published: undefined
اس موقع پر عآپ رہنما سوربھ بھاردواج نے کہا کہ وزیر اعظم مودی سمیت بی جے پی کے تمام بڑے رہنماؤں نے غریب جھگی والوں سے وعدہ کیا تھا کہ جہاں جھگی ہے، وہاں مکان بنا کر دیں گے۔ حکومت بننے کے چند دنوں بعد ہی ان غریبوں کی جھگیاں اجاڑنا شروع کر دیا ہے۔ اب تک تقریباً 10 ہزار جھگیاں توڑی جا چکی ہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ غریب جھگی والے بے گھر ہو چکے ہیں۔ بی جے پی حکومت نے ان کے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں چھوڑا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined