قومی خبریں

آٹھواں مرکزی تنخواہ کمیشن: حکومت نے 30 اپریل تک تمام متعلقہ فریقوں سے طلب کیں تجاویز

آٹھویں تنخواہ کمیشن نے سرکاری ملازمین، پنشنرز اور ان کی تنظیموں سے 30 اپریل 2026 تک تجاویز طلب کی ہیں۔ میمورنڈم صرف سرکاری پورٹل کے ذریعے جمع ہوں گے جبکہ ای میل یا کاغذی درخواستیں قبول نہیں ہوں گی

<div class="paragraphs"><p>وزیر خزانہ نرملا سیتارمن / آئی اے این ایس</p></div>

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن / آئی اے این ایس

 
IANS

نئی دہلی: آٹھویں مرکزی تنخواہ کمیشن نے سرکاری ملازمین، پنشنرز اور دیگر متعلقہ فریقوں سے تجاویز اور نمائندگی طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تجاویز 30 اپریل 2026 تک جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق کمیشن نے اس مقصد کے لیے اپنی ویب سائٹ پر ایک آن لائن ساختہ فارمیٹ فراہم کیا ہے، جس کے ذریعے مختلف تنظیمیں اور افراد اپنی رائے پیش کر سکیں گے۔

کمیشن نے بتایا کہ سرکاری خدمات میں کام کر رہے ملازمین، پنشنرز کی تنظیمیں، ملازمین کی یونینیں، مختلف ادارے اور انفرادی طور پر ملازمین یا پنشنرز اس عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے میمورنڈم یا نمائندگی جمع کرانے کے لیے آن لائن فارمیٹ تیار کیا گیا ہے تاکہ تمام تجاویز ایک منظم طریقے سے موصول ہو سکیں۔

Published: undefined

وزارت خزانہ کے مطابق یہ ساختہ فارمیٹ مائی گَو پورٹل پر بھی دستیاب ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ تجاویز جمع کرانے کے لیے صرف اسی آن لائن پورٹل کا استعمال کیا جائے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ کاغذی دستاویزات، ای میل یا پی ڈی ایف فائلوں کی شکل میں بھیجی گئی درخواستیں غالب امکان ہے کہ قبول نہیں کی جائیں گی۔

ملک بھر میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ مرکزی سرکاری ملازمین اور پنشنرز آٹھویں تنخواہ کمیشن کے نفاذ سے متعلق اشاروں کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کمیشن کی سفارشات سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ممکنہ اضافہ ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔

Published: undefined

تاہم بعض رپورٹوں کے مطابق مالی سال 2027 میں تنخواہ اور پنشن میں اضافے کا مکمل فائدہ ملنا فی الحال مشکل سمجھا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے اٹھارہ ماہ کی مدت دی گئی ہے۔ اس مدت کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سفارشات پر عمل درآمد مالی سال 2027 میں مکمل طور پر نہ ہو سکے۔

اس کے باوجود امکان ہے کہ کمیشن اہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کو تیز کرے اور مئی 2027 کی مقررہ مدت سے پہلے ہی اپنی رپورٹ پیش کر دے۔ اس طرح حکومت کو سفارشات پر جلد فیصلہ لینے میں سہولت مل سکتی ہے۔

Published: undefined

عام طور پر جب کسی نئے تنخواہ کمیشن کی سفارشات نافذ کی جاتی ہیں تو مہنگائی بھتہ اور مہنگائی راحت کو پہلے صفر پر دوبارہ مقرر کیا جاتا ہے اور اس کے بعد انہیں مرحلہ وار بڑھایا جاتا ہے۔ گزشتہ نظر ثانی کے بعد مہنگائی بھتہ اور مہنگائی راحت کی شرح اٹھاون فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ساتویں تنخواہ کمیشن کا مالی اثر تقریباً ایک لاکھ دو ہزار کروڑ روپے رہا تھا، تاہم مہنگائی بھتہ اور مہنگائی راحت کے حساب کے بعد ملازمین کو حقیقی اضافہ نسبتاً کم محسوس ہوا تھا۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آٹھویں تنخواہ کمیشن کا مالی اثر اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے اور یہ تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار کروڑ سے تین لاکھ بیس ہزار کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بتایا جا رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined

,
  • ’ہندوستان کو روس سے تیل درآمدگی کی اجازت دینے یا نہ دینے کا حق امریکہ کو کس نے دیا؟‘ کانگریس کا سوال