قومی خبریں

دہلی کی 81 فیصد آبادی درمیانی یا اس سے بدتر آلودگی کی زد میں: اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق دہلی کی 81.1 فیصد آبادی ایسے مانیٹروں کے 4 کلومیٹر دائرے میں رہتی ہے جہاں اے کیو آئی درمیانہ یا اس سے بدتر ہے۔ وزیرپور میں اے کیو آئی 168 ریکارڈ ہوا

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ ’سانس‘ رپورٹ میں کہا ہے کہ شہر کی تقریباً 81 فیصد آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں قریبی فضائی معیار مانیٹر پر اے کیو آئی ’درمیانہ‘ یا اس سے بدتر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار دہلی میں فضائی آلودگی کے وسیع پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ماکن کی رپورٹ کے مطابق 10 ستمبر صبح 10 بجے سے 11 ستمبر صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار میں دہلی کے 42 رپورٹنگ مانیٹروں کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے ’درمیانہ‘ یا اس سے بدتر اے کیو آئی ریکارڈ کرنے والے مانیٹروں کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 169.9 لاکھ افراد رہتے ہیں، جو دہلی کی 81.1 فیصد آبادی کے برابر ہیں۔

تازہ اعداد و شمار میں وزیرپور دہلی کا سب سے زیادہ آلودہ مانیٹرنگ مقام رہا، جہاں اے کیو آئی 168 ریکارڈ کیا گیا۔ یہ سی پی سی بی کے پیمانے پر ’درمیانہ‘ زمرہ ہے اور رپورٹ کے مطابق اس ریڈنگ کو پی ایم10 بڑھا رہا ہے۔ وزیرپور کے متعلقہ مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 14.1 لاکھ افراد رہتے ہیں۔

سی پی سی بی کے مطابق ’درمیانہ‘ اے کیو آئی کی سطح پر بھی پھیپھڑوں کے امراض، خصوصاً دمے میں مبتلا افراد کے ساتھ دل کے مریضوں، بچوں اور بزرگوں کو سانس لینے میں تکلیف ہو سکتی ہے۔ ماکن نے اسی بنیاد پر فضائی آلودگی کو صرف انتہائی خراب اے کیو آئی والے علاقوں تک محدود مسئلہ سمجھنے کے بجائے وسیع شہری مسئلہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دہلی میں 25.6 لاکھ افراد کسی بھی فضائی معیار مانیٹر سے 4 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر رہتے ہیں۔ یعنی تقریباً 88 فیصد آبادی کسی نہ کسی مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں آتی ہے، جبکہ 12 فیصد کے قریب آبادی اس دائرے سے باہر ہے۔

ماکن نے دہلی کی پی ایم10 آلودگی کے سالانہ رجحان کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد دہلی کی پی ایم10 ہوا اب گزشتہ سال کے اسی دن کے مقابلے میں بدتر نہیں رہی اور اس کا مسلسل جاری رہنے والا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے۔ تاہم رواں سال کے مجموعی اعداد و شمار میں اب بھی تشویش برقرار ہے، کیونکہ 254 دنوں میں 167 دن پی ایم10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

’سانس‘ سیریز کے ذریعے ماکن روزانہ دہلی کے مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنوں کے اے کیو آئی اور ان کے قریب رہنے والی آبادی کے اعداد و شمار سامنے لا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ ریکارڈ کیے جانے والے اعداد و شمار کو خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا اور شہریوں کو فضائی معیار کی صورت حال سے باخبر رہنا چاہیے۔

رپورٹ میں بنیادی اعداد و شمار سی پی سی بی (سی آر ای اے) کے بتائے گئے ہیں، جبکہ صحت پر ممکنہ اثرات کے لیے سی پی سی بی کے نیشنل ایئر کوالٹی انڈیکس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مکمل رپورٹ اور طریقۂ کار ’ہوا کا حساب‘ ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔