
بی ایم سی / سوشل میڈیا
مہاراشٹر کے کئی شہروں میں کرائے جار ہے بلدیاتی انتخاب کی تشہیر اب اپنے آخری مرحلے میں ہے، لیکن سب کی نظریں ملک کی سب سے امیر برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے انتخاب پر مرکوز ہیں۔ کیونکہ اس بار بی ایم سی انتخاب میں مذہبی ماحول زیادہ نظر آ رہا ہے، اس کے باوجود مسلم امیدواروں کی اوسط نمائندگی تقریباً پہلی جیسی ہی ہے۔ اس بار ممبئی میں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر مجموعی طور پر 334 مسلم امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔
Published: undefined
بی ایم سی انتخاب میں سب سے زیادہ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے معاملے میں اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم سب سے آگے رہی ہے۔ اس کے علاوہ سماجوادی پارٹی اور اجیت پوار گروپ کی راشٹروادی کانگریس پارٹی نے بھی بہت سارے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا ہے جبکہ شیوسینا کے دونوں دھڑوں نے مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ممبئی شہر میں مسلم ووٹرس کی تعداد 25.6 فیصد ہے جبکہ مضافاتی علاقوں میں 19.19 فیصد ہے۔ 2017 کے انتخاب میں تمام سیاسی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر مجموعی طور پر 360 مسلم امیدوار میدان میں تھے۔ جبکہ اس مرتبہ مجموعی طور پر 1700 امیدوار بی ایم سی انتخاب میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں، ان میں سے 334 امیدوار (تقریباً 19) فیصد مسلم طبقہ سے آتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کئی مسلم اکثریتی وارڈوں میں اس بار خواتین ریزرویشن نافذ ہونے کی وجہ سے مرد امیدواروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ممبئی میں کُل 45 وارڈ مسلم اکثریتی ہیں، جن میں سے 30 وارڈ میں مسلم ووٹرس فیصلہ کن کردار میں ہیں۔
Published: undefined
بی ایم سی انتخاب میں سب سے زیادہ اے آئی ایم آئی ایم نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے، پارٹی نے 32 امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جس میں سے 25 مسلم امیدوار ہیں اور یہ کل تعداد کا 78 فیصد ہے۔ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے معاملے میں مجلس کے بعد سماجوادی پارٹی کا نمبر آتا ہے، پارٹی کے 70 امیدواروں میں سے 50 امیدوار (71 فیصد) مسلم ہیں۔ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے میں تیسرے نمبر پر ہے اجیت پوار کی این سی پی، پارٹی کے 94 امیدوار میدان میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں، جس میں 24 فیصد یعنی 23 مسلم امیدوار ہیں۔ کانگریس نے بھی 21 فیصد ٹکٹ مسلم امیدواروں کو دیے ہیں، پارٹی 150 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے اور ان میں سے 33 سیٹوں پر مسلم امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
Published: undefined
بی جے پی نے بی ایم سی انتخاب میں 137 امیدوار اتارے ہیں، لیکن ایک بھی مسلم امیدوار پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں نہیں ہے۔ جبکہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی پارٹی شیوسینا نے اپنے 91 امیدواروں میں سے 10 فیصد یعنی 10 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا نے 163 امیدوار بی ایم سی انتخاب میں اتارے ہیں اور اس میں سے 8 امیدوار (5 فیصد) مسلم ہیں۔ راج ٹھاکے کی مہاراشٹر نوَنِرمان سینا بھی بی ایم سی میں 53 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے، پارٹی نے صرف 2 مسلم امیدواروں کو ہی ٹکٹ دیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ 334 میں سے 91 مسلم امیدوار بطور آزاد امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
Published: undefined
بی جے پی نے وارڈ نمبر 124 سے شکیل انصاری کو اپنے واحد مسلم امیدوار کے طور پرمیدان میں اتارا تھا، لیکن ان کی پرچہ نامزدگی کو کالعدم ٹھہرائے جانے کی وجہ سے بی جے پی کا ایک بھی مسلم امیدوار انتخابی میدان میں نہیں ہے۔ اگر دیگر پارٹیوں کی بات کی جائے تو بی ایس پی (8)، عام آدمی پارٹی (9)، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (1)، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹ-مارکس (1)، جنتا دل (1)، مسلم لیگ (2)، اور ریپبلکن پارٹی (3) وغیرہ نے مجموعی طور پر 45 مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اگر گزشتہ انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو 2017 کے بی ایم سی انتخاب میں مجموعی طور پر 31 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ ان میں سے سب سے زیادہ کامیابی کانگریس کو ملی تھی، پارٹی کے 11 مسلم امیدوار جیت کر آئے تھے۔ کانگریس کے علاوہ سماجوادی پارٹے کے 7، غیر منقسم این سی پی کے 6، اے آئی ایم آئی ایم کے 4، غیر منقسم شیوسینا کے 2 اور ایک آزاد امیدوار شامل تھے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined