
بورڈ آف سینئر سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) 12 ویں کے ری ایویلیویشن (دوبارہ جانچ) کے لئے درخواست کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں سی بی ایس ای نے تازہ معلومات فراہم کی ہے جس کے مطابق 2 مئی کی رات 10 بجے تک 28 ہزار سے زیادہ طلبا نے ری ایویلیویشن کی لئے درخواست کی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ طلباء کے تاثرات کی بنیاد پر صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے مزید بہتری کی گئی ہے جس میں سیشن کی حد بڑھانا بھی شامل ہے۔ سی بی ایس ای نے مزید کہا کہ ہماری ٹیمیں ایک محفوظ، قابل اعتماد اور طلبا کے لیے آسان پلیٹ فارم یقینی بنانے کے لیے لگا تار نظر رکھ رہی ہیں۔
Published: undefined
اس سے پہلے سی بی ایس ای نے بتایا تھا کہ 2 مئی کو دو پہر 3 بجے تک 16 ہزار سے زیادہ طلبا نے سی بی ایس ای ری ایویلیویشن پورٹل کے ذریعہ درخواست جمع کی تھی جبکہ پلیٹ فارم کو کئی سائبر حملے کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سی بی ایس ای کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق صرف 2 منٹ کے اندر پورٹل پر تقریباً 1.5 ملین یعنی 15 لاکھ سائبر حملے کئے گئے تھے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمینرر پردھان نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ ری ایویلیویشن کے لیے جو بھی طلبا اہل ہوں گے، ان میں سے 20 فیصد سے زیادہ طلبا کی جانب سے ری ایویلیویشن کے لئے درخواست کرنے کی امید نہیں ہے۔ ان اندازوں کی بنیاد پر طلبا کی تعداد تقریباً 80 ہزار رہنے کی امید ہے لیکن پورٹل کھلنے سے پہلے 9 سے 10 گھنٹوں کے اندر ہی 16 ہزار درخواستیں جمع ہوچکی تھیں اور درخواست جمع کرنے کی مدت میں ابھی بھی کافی وقت باقی ہے۔ اس لئے مانا جارہا ہے کہ درخواستوں کی تعداد وزیر تعلیم کی امید سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
Published: undefined
جن طلبا کو ان کی جانچ شدہ جوابی کاپیوں کی اسکین شدہ کاپیاں موصول ہوچکی ہیں وہ ری ایویلیویشن کے لیے درخواست کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے سب سے پہلے پورٹل پر لاگ ان کرنا ہوگا، آدھار کی تصدیق مکمل کرنا ہوگی اور مطلوبہ سروس کا انتخا ب کرنا ہوگا۔ اس کے بعد مضمون کی تفصیلات درج کرنا ہوگی، فیس کی ادائیگی کرنا ہوگی اور پھر درخواست جمع کرنا ہوگی۔ بورڈ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طلبا کو اپنی درخواست جمع کرنے سے پہلے اس کا بغور مطالعہ کر لینا چاہیے کیونکہ بعد میں اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔
Published: undefined
سی بی ایس ای نے کہا ہے کہ جن طلبا کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے وہ ویریفکیشن کے لیے والدین، سرپرست یا رشتے دار کے آدھار کارڈ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ بورڈ نے مزید کہا کہ ویریفکیشن کے دوران درج کیا گیا آدھار سے منسلک نام، تاریخ پیدائش اور جنس اس شخص کی تفصیلات سے مماثل ہونی چاہیے جس کا آدھار نمبر استعمال کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined