
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مہاراشٹر میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد جاری کی گئی مسودہ ووٹر لسٹ سے 2.07 کروڑ نام خارج کیے جانے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹروں کی فہرست میں تبدیلیوں کے طریقے بدلتے رہتے ہیں، لیکن مقصد ایک ہی ہے کہ کسی بھی قیمت پر بی جے پی کی جیت یقینی بنانا اور ہندوستانی جمہوریت کو ختم کرنا۔
راہل گاندھی نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی اور ’ووٹ چوری کمیشن‘ کے طریقے بدلتے رہتے ہیں اور بدلتے رہیں گے، لیکن ان کا مقصد ایک ہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مہاراشٹر میں 2024 کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان اچانک 39 لاکھ نئے ووٹر شامل کیے گئے تھے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ انہوں نے اس وقت بھی اسے ’ووٹ چوری‘ قرار دیا تھا اور آج بھی اپنے الزام پر قائم ہیں۔ راہل گاندھی نے مغربی بنگال میں 2026 کی ایس آئی آر کارروائی کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، اس عمل کے دوران ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ناموں میں سے 91 فیصد نام اپیل کے بعد دوبارہ شامل کیے گئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہر 10 میں سے تقریباً 9 نام غلط طریقے سے خارج کیے گئے تھے اور انہیں انتخابات کے بعد واپس شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے معاملے میں بھی انہوں نے پہلے ہی اسے ’ووٹ چوری‘ قرار دیا تھا۔
مہاراشٹر کی تازہ ووٹر لسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ریاست میں 2.07 کروڑ ووٹروں کو مسودہ فہرست سے باہر کر دیا گیا ہے، یعنی تقریباً ہر پانچواں ووٹر فہرست سے غائب ہے۔ انہوں نے مختلف مراحل پر ووٹروں کی تعداد میں بڑے فرق کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ آخر کون سی فہرست درست تھی۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مہاراشٹر میں ووٹروں کی تعداد 9.29 کروڑ، اسمبلی انتخابات میں 9.7 کروڑ، جبکہ ایس آئی آر 2026 کے مسودے میں یہ تعداد 7.78 کروڑ ہے۔ راہل نے سوال اٹھایا، ’’کون سی فہرست صحیح تھی؟‘‘ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ’ووٹ چوری‘ کے ذریعے بننے والی حکومت کے لیے عوام کی ضرورت نہیں ہے، اسی لیے بی جے پی نہ عوام کی سنتی ہے اور نہ ان کے حکم کو تسلیم کرتی ہے۔
دوسری جانب مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق ایس آئی آر کے تحت پیر کو جاری مسودہ ووٹر لسٹ میں 2.06 کروڑ نام خارج کیے گئے ہیں، جو گزشتہ ووٹر فہرست میں شامل ناموں کا تقریباً 21.14 فیصد ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق نئی مسودہ فہرست میں 7.71 کروڑ سے زیادہ ووٹر شامل ہیں۔ ان میں تقریباً 3.95 کروڑ مرد، 3.75 کروڑ خواتین اور 3,087 تیسری جنس کے ووٹر شامل ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔