
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری، تصویر ’ایکس‘ @samrat4bjp
راجدھانی پٹنہ سمیت 11 اہم شہروں کے پاس ریاستی حکومت سیٹلائٹ ٹاؤن شپ بنانے جا رہی ہے۔ ان تمام ٹاؤن شپ کے اپنے اپنے الگ الگ نام ہوں گے۔ محکمہ شہری ترقی اور ہاؤسنگ کی سطح سے اس سے متعلق نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی متعلقہ شہروں کے آس پاس نشان زدہ علاقوں میں زمین کی خرید و فروخت، منتقلی اور زمین کی ترقی یا عمارات کی تعمیر پر روک لگ جائے گی۔ یہ نوٹیفکیشن محکمہ کی سطح سے جلد جاری ہونے کی امید ہے۔ یہ پابندی 2027 تک رہے گی۔ ریاست کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں بدھ (22 اپریل) کو منعقدہ کابینہ کی پہلی میٹنگ میں مجموعی طور پر 22 ایجنڈوں پر مہر لگی، جس میں سیٹلائٹ شہروں سے متعلق ایجنڈوں کو وسعت دی گئی۔
Published: undefined
کابینہ کی میٹنگ کے بعد اس میں لیے گئے فیصلوں کے بارے میں محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اروند کمار چودھری نے تفصیلی جانکاری دی۔ اس موقع پر اپنے اپنے محکموں سے متعلق موضوعات پر تفصیل سے معلومات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کے سکریٹری بھی موجود تھے۔ محکمہ شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے پرنسپل سکریٹری ونے کمار نے بتایا کہ پٹنہ کے قریب تیار ہونے والی ٹاؤن شپ کا نام پاٹلی پترا ہوگا۔ اسی طرح سونپور کی ٹاؤن شپ کا نام ہری ہر ناتھ پورم، گیا جی کا مگدھ، پورنیہ کا پورنیہ، چھپرہ کا سارن، سیتا مڑھی کا سیتا پورم، سہرسہ کا کوسی، منگیر کا اَنگ، مظفرپور کا ترہت، بھاگلپور کا وکرم شیلا اور دربھنگہ کی ٹاؤن شپ کا نام متھلا رکھا گیا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ محکمہ جاتی نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہو پائے گا کہ کس شہر میں تیار ہونے والی ٹاؤن شپ کی کیا شکل ہوگی۔ اس کے بنیادی (کور) علاقے کی توسیع مخصوص علاقے تک کہاں سے کہاں تک ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں علاقہ نشان زد ہونے ہونے کے بعد ان تمام علاقوں میں زمین کی خرید و فروخت یا منتقلی سمیت دیگر تمام سرگرمیوں پر آئندہ ایک سال تک کے لیے پابندی لگ جائے گی۔ مظفرپور، سیتا مڑھی، چھپرہ اور بھاگلپور میں یہ پابندی 30 جون 2027 تک کے لیے رہے گی۔ جبکہ دیگر اضلاع پٹنہ سونپور، گیاجی، دربھنگہ، سہرسہ، پورنیہ اور مونگیر میں پابندی 31 مارچ 2027 تک رہے گی۔ یہ پابندی زمین کی حد بندی کا عمل جاری رہنے تک رہے گی۔ اگر کسی شہر میں یہ عمل پہلے مکمل کر لی جاتی ہے تو پابندی پہلے بھی ہٹ سکتی ہے۔
Published: undefined
پرنسپل سکریٹری نے بتایا کہ ہر ٹاؤن شپ کی توسیع کور علاقہ سے خصوصی علاقے کی طرف ہوگی۔ اس کا رقبہ فی الحال 800 سے 1200 ایکڑ تک ہوگا۔ مستقبل میں اس کی توسیع اس سے 10 گنا زیادہ تک کی جا سکتی ہے۔ ٹاؤن شپ کے لیے زمین کا حصول لینڈ پولنگ اور ٹرانزٹ سمیت دیگر ذرائع سے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ٹاؤن شپ کی تعمیر سے منظم شہرکاری اور ماسٹر پلان پر مبنی ترقی یقینی ہوگی۔ اس سے معاشی سرگرمیوں کے مراکز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ریاست کی معیشت میں ڈھانچہ جاتی تبدیلی آئے گی۔ ساتھ ہی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور شہریوں کو اعلیٰ معیار کی شہری سہولیات ملیں گی۔ ان کی تعمیر سے موجودہ شہروں پر بوجھ کم ہوگا اور شہری توسیع منصوبہ بند ترقی سے ہو سکے گی۔ پرائیویٹ یا ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined