
دگ وجے سنگھ / تصویر یو این آئی
مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ تقریباً تین ہزار افراد کے ساتھ اپنی ’ستیہ، سناتن، سوابھیمان‘ یاترا پر نکلے ہوئے ہیں۔ 80 برس کی عمر میں بھی وہ پیدل سفر کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ اس سے قبل 2017 میں انہوں نے 3200 کلومیٹر طویل نرمدا پریکرما کی تھی۔ اس بار ان کی 930 کلومیٹر طویل پدیاترا اجین کے مہاکالیشور مندر سے شروع ہوئی ہے، جو اورچھا کے رام راجہ سرکار مندر سے ہوتے ہوئے ایودھیا میں بھگوان شری رام کے دھام تک پہنچے گی۔
اس یاترا کے ذریعے مذہبی مقامات پر عقیدت مندوں کی جانب سے دیے جانے والے عطیات اور چڑھاوے کے انتظامات میں شفافیت اور بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یاترا سچائی، سماجی ہم آہنگی اور مذہبی عقیدت کے احترام کا پیغام بھی دے رہی ہے۔
نرمدا پریکرما کے برعکس اس مرتبہ یہ یاترا غیر سیاسی نہیں بلکہ واضح طور پر سیاسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کارکنان میں خاصا جوش و خروش ہے۔ یاترا کے دوران عام لوگوں سے بھی مسلسل رابطہ قائم کیا جا رہا ہے۔ راستے کے دونوں جانب بڑی تعداد میں مقامی لوگ جمع ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنے کھیتوں اور گھروں میں کام کرتے ہوئے اس پدیاترا کو دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ کسانوں نے گفتگو کے دوران آلو کی گزشتہ فصل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بازار میں مناسب قیمت نہ ملنے کے سبب ان کی لاگت بھی پوری نہیں ہو سکی۔ کولڈ اسٹوریج میں آلو رکھنے کے باوجود انہیں اتنی کم قیمت ملی کہ ذخیرہ کرنے کا کرایہ تک وصول نہیں ہو پایا۔
ووٹ اور چندے کی چوری کے خلاف دگ وجے سنگھ کی 70 روزہ پدیاترا کے دوران راجندر چندرکانت رائے نے ان سے گفتگو کی۔ انٹرویو کے اہم اقتباسات پیش ہیں:
سوال: آپ جن مقاصد کو لے کر پدیاترا کر رہے ہیں، ان پر کانگریس کا کیا موقف ہے؟
دگ وجے سنگھ: کانگریس کی نظریاتی بنیاد ہی ان اقدار پر قائم ہے۔ تمام مذاہب کا احترام اور سماجی ہم آہنگی ہندوستانی معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ سناتن دھرم کی بنیادی روح اور ہندوستانی آئین کا جذبہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔
آج ملک میں ایسے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں کہ ہندوستانی آئین ہی خطرے میں پڑ گیا ہے اور شہریوں کے حقوق پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ اقتدار پر اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے آئینی اور عدالتی اداروں کے وقار کو ختم کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کے حق رائے دہی کا تحفظ الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن وہ ملک کے 13 کروڑ ووٹروں کو نہ صرف ووٹ کے حق بلکہ شہریت سے بھی محروم کر رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے آنے کے بعد الیکشن کمیشن غیر جانب دار نہیں رہا بلکہ یک طرفہ ہو گیا ہے۔
سوال: بی جے پی ہندوتوا کی بات کرتی ہے۔ یہ سناتن دھرم سے کس طرح مختلف ہے؟
دگ وجے سنگھ: یہ دونوں بالکل الگ چیزیں ہیں۔ میں ہندوتوا کا حامی نہیں ہوں اور نہ کبھی ہو سکتا ہوں، کیونکہ ہندوتوا کا سناتن دھرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سناتن دھرم ہزاروں برس پرانا ہے، جبکہ ہندوتوا کے تصور کو ساورکر نے پہلی مرتبہ سیاسی نظریے کے طور پر پیش کیا تھا۔ وہ پہلے شخص بھی تھے جنہوں نے 1923 میں دو قومی نظریے کا فرقہ وارانہ تصور پیش کیا۔
ساورکر کے نظریے پر چلنے والے لوگ ملک میں مذہب کے نام پر نفرت پھیلا رہے ہیں اور مختلف برادریوں کو ایک دوسرے کے خلاف تشدد پر اکسا رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو آپس میں لڑانا سناتن دھرم کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گاندھی کو گولی کیوں ماری گئی، کس نے ماری اور اس کے پیچھے کیا مقصد تھا۔ گاندھی کے قتل کے پیچھے نفرت کی ایک نظریاتی سوچ تھی، جو تمام مذاہب کے یکساں احترام کے خلاف تھی۔ انگریزوں نے اپنے مفادات کے لیے ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی جو پالیسی اپنائی تھی، ساورکر اور آر ایس ایس نے اسے اپنا لیا اور آج بھی معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کے لیے اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
سوال: بی جے پی آپ کو ہندو مخالف قرار دیتی ہے؟
دگ وجے سنگھ: کردار کشی کرنا، افواہیں پھیلانا اور جھوٹ پیش کرنا بی جے پی کے پرانے ہتھکنڈے ہیں۔ مندروں کے چندے اور چڑھاوے میں چوری کرنے والوں کو شاید معلوم نہیں کہ میرے آبائی گھر (راگھوگڑھ کے قلعے) میں سات مندر ہیں۔ ان میں سے چار مندروں میں اکھنڈ جیوت جلتی ہے۔ میں ایکادشی کا ورت رکھتا ہوں اور پیدل نرمدا پریکرما بھی کر چکا ہوں۔
میرا بی جے پی رہنماؤں سے سوال ہے کہ وہ مذہب اور عقیدت کی باتیں کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کتنے لوگوں نے پیدل چل کر نرمدا پریکرما کی ہے؟ انہیں اس کا جواب دینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو بھی ان کی بدعنوانیوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اسے ہندو مخالف قرار دے دیا جاتا ہے۔
سوال: رام مندر میں چڑھاوے کی چوری جیسے گھوٹالے سامنے آ رہے ہیں۔ کیا عام لوگ اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟
دگ وجے سنگھ: لوگ اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ جس دن سے چڑھاوے کی چوری کا معاملہ سامنے آیا ہے، مندر میں روزانہ آنے والے چڑھاوے میں بہت زیادہ کمی ہو گئی ہے۔ یہ حقیقت بتاتی ہے کہ مذہبی عقیدت کو کتنی گہری ٹھیس پہنچی ہے۔
جو گیانیش کمار انتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے بدنامی کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، وہی رام للا مندر کے ٹرسٹ کی تشکیل کے اصل منصوبہ ساز بھی ہیں۔ وہ ’نوٹ چوری اور ووٹ چوری‘ دونوں میں ملوث ہیں۔
مندر کی تعمیر سے متعلق ٹرسٹ میں وشو ہندو پریشد سے وابستہ لوگوں کو ترجیح دی گئی۔ رام مندر کی تعمیر کے لیے زمین مختص کرنے اور ٹرسٹ کی تشکیل کے پورے عمل پر کئی سوالات ہیں۔ سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے دور حکومت میں مندر کی تعمیر کے لیے زمین مختص کی گئی تھی۔ اس وقت ٹرسٹ میں کانگریس کے کسی رہنما کو شامل کرنے کے بجائے سادھو سنتوں کو جگہ دی گئی تھی۔
میں رام مندر کی تعمیر کے لیے جمع کیے گئے چندے اور سونے چاندی کی اینٹوں کا حساب عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اس پورے عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ رام مندر تحریک کے نام پر لوگوں نے عقیدت کے ساتھ عطیات دیے تھے، اس لیے ضروری ہے کہ عطیہ کی گئی رقم اور دیگر اشیا کا مکمل حساب عام کیا جائے۔
رام مندر کمیٹی کے سابق اکاؤنٹنٹ مہپال سنگھ نے ہی سب سے پہلے ان بے ضابطگیوں کی شکایت کی تھی، لیکن شکایت کرنے کے بعد الٹا انہیں ہی ملازمت سے نکال دیا گیا۔
سوال: آپ نے نرمدا پریکرما کی تھی اور اس کے بعد مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت چلی گئی تھی۔ کیا اس مرتبہ مدھیہ پردیش اور اتر پردیش، دونوں ریاستوں کی حکومتیں جانے والی ہیں؟
دگ وجے سنگھ: (زور سے ہنستے ہوئے) میں بڑی انکساری کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے سبب نہ حکومتیں گرتی ہیں اور نہ بنتی ہیں۔ ہم تو عوام کے مسائل کو عوام کی عدالت میں لے کر جاتے ہیں۔ عوام انہیں سنتے ہیں، ان پر غور کرتے ہیں اور اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔ عوامی عدالت کا فیصلہ ہی سب سے اہم ہوتا ہے۔ ووٹ چوری کرکے اس کی توہین کرنے والوں کو مناسب سزا ملے گی۔
میں حکومت سے کہتا ہوں کہ چندہ چوروں کو پکڑو، انہیں جیل بھیجو اور ان کا تحفظ مت کرو۔ ووٹ چوری بند کرو۔ ہمیں ای وی ایم نہیں چاہیے۔ انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے ہونے چاہئیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔