
طالبات کے ساتھ صنوبر کہکشاں (بالکل دائیں)
کولمبیا میں 13 نومبر 1985 کو ’نیواڈو ڈیل روئز‘ شعلہ فشاں نے زبردست تباہی مچائی تھی۔ اس حادثہ میں کم و بیش 25 ہزار افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس اندوہناک واقعہ سے ٹھیک ایک روز قبل ریاست بہار کے تاریخی شہر عظیم آباد (پٹنہ) میں ایک کہکشاں صفت شخصیت نے آنکھیں کھولیں، جس کا نام صنوبر کہکشاں رکھا گیا۔ شاہ عالم خان اور شکیل النساء خانم کی نور چشم کہکشاں آج ویشالی کے مہنار واقع ’اُتکرمت مدھیہ ودیالیہ‘ (مروّت پور) میں تدریسی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ انھیں اس اسکول میں مستقل ملازمت 2 فروری 2022 کو ملی، لیکن تدریس سے ان کا رشتہ 7 سال کی کم عمری سے جڑا ہوا ہے۔ ماں شکیل النساء کی تعلیم و تربیت اور کہکشاں کی ذہانت کا ہی اثر تھا کہ انھوں نے 6 سال کی عمر میں قرآن پاک بھی مکمل کر لیا اور اردو قاعدہ کی بھی تکمیل ہو گئی۔ پھر پڑھنے پڑھانے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ اب تک جاری ہے۔
Published: undefined
صنوبر کہکشاں یوں تو اسکول میں ہندی کی ٹیچر ہیں، لیکن ریاضی اور اردو کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر دیگر موضوعات کی کلاسز بھی لیتی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کا رشتہ اُردو زبان کے ساتھ بچپن میں جو جڑا تو آج تک نہیں چھوٹا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اُردو زبان ہی نہیں، اُردو زبان کی خدمت کرنے والوں کو بھی بہت احترام کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ مصروفیات کے سبب ان کی کوئی تخلیقی کاوش سامنے نہیں آئی، لیکن میسر وقت میں وہ اردو کی کتابیں پڑھنے میں مشغول ہو جاتی ہیں۔ اسکول میں بھی جب انھیں اُردو زبان پڑھانے کا موقع ملتا ہے، تو ایک الگ جوش اور جذبہ سے سرشار ہو جاتی ہیں۔ ان کے تعلیمی سفر پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ شروع سے ہی تدریس کے شعبہ سے جڑنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے میٹرک 2000ء میں (ماڈرن ہائی اسکول، دریاپور، پٹنہ)، انٹرمیڈیٹ 2002ء میں (انٹر پریسیڈنسی کالج، نیو عظیم آباد کالونی، پٹنہ) اور بی اے 2007ء میں (آر پی ایس کالج، مہنار) مکمل کیا۔ 2017 میں کہکشاں نے بی ایڈ (بہار کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، راجہ بازار، پٹنہ) کی ڈگری حاصل کی، جس کے 5 سال بعد سرکاری اسکول میں مستقل ملازمت حاصل کر لی۔
——————————————————————
Published: undefined
’اُتکرمت مدھیہ ودیالیہ، مروّت پور، مہنار‘ کی بنیاد کب پڑی، اور اس اسکول کی خصوصیات کیا ہیں؟
تاریخی ضلع ویشالی کے مہنار میں واقع ’اُتکرمت مدھیہ ودیالیہ، مروّت پور‘ کی بنیاد 1960 میں پڑی۔ اس اسکول کے لیے گاؤں کے ایک بزرگ حاجی نتھے خاں نے 8 کٹھہ کی اپنی ذاتی زمین عطیہ کی تھی۔ اس کی نصف زمین میں اسکول اور نصف میں دُرگا مندر ہے۔ مندر کی وجہ سے یہ اسکول ’دُرگا مندر اسکول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اسکول کی شروعات 2 کمروں سے ہوئی تھی اور درجہ اوّل سے درجہ 4 تک کی تعلیم دی جاتی تھی۔ پھر پانچویں درجہ تک اور 2004 میں آٹھویں درجہ تک کی پڑھائی ہونے لگی۔ ویسے تو اسکول ’پلس 2‘ تک اپگریڈ ہو چکا ہے، لیکن اس کے انچارج پرنسپل اور مینجمنٹ وغیرہ الگ ہیں۔ بلڈنگ ایک ہی ہے، جہاں نصف حصہ میں اول سے آٹھویں درجہ تک کی کلاسز چلتی ہیں اور نصف حصہ میں نویں سے بارہویں تک کی کلاسز ہوتی ہیں۔
میری تقرری اس اسکول میں چھٹی سے آٹھویں درجہ کے لیے ہندی ٹیچر کے طور پر ہوئی، حالانکہ ریاضی اور اردو کی کلاسز بھی لیتی رہی ہوں۔ یہاں اوّل سے آٹھویں تک مجموعی طور پر تقریباً 1000 بچے زیر تعلیم ہیں اور 18 اساتذہ تدریسی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ مقامی افراد اپنے بچوں کا داخلہ اس اسکول میں کرانے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ پہلی سے بارہویں تک انھیں پھر کسی دوسرے اسکول کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔
چند ماہ قبل تک اسکول کی پرنسپل آشا سنہا تھیں، جن کی قیادت میں ایک خوشگوار تعلیمی ماحول پیدا ہوا۔ موجودہ پرنسپل ذوالفقار احمد انصاری بھی ایک بااصول اور شفیق شخصیت کے مالک ہیں۔ انھوں نے اسکول کی فضا کو تعلیمی اور تربیتی دونوں اعتبار سے مثالی بنا دیا ہے۔ ان کی غیر موجودگی میں غلام حسنین سر اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، جو کہ انتہائی تجربہ کار شخص ہیں۔
آپ کو تدریس کے شعبہ میں آنے کی ترغیب کیسے ملی اور اب تک کا تجربہ کیسا رہا؟
بچپن سے ہی مجھے پڑھانے کا بہت شوق رہا ہے، خصوصاً اُردو زبان سے بے انتہا محبت رہی ہے۔ میری عمر تقریباً 7 سال ہوگی، تب سے میں اُردو پڑھا رہی ہوں۔ دراصل میرے نانیہال میں ماموں جان (شوکت حیات خان) سے کچھ بچے ٹیوشن پڑھنے آتے تھے۔ وہ سبھی انگلش میڈیم کے بچے تھے، اس لیے ان کی اردو کمزور تھی۔ چونکہ میری امی نے مجھے 6 سال کی عمر میں ہی قرآن پاک اور اردو قاعدہ ختم کروا دیا تھا، اس لیے مجھے اُردو پڑھنے اور پڑھانے میں کوئی دقت نہیں ہوتی تھی۔ اردو پر میری گرفت دیکھ کر ماموں جان بہت خوش ہوتے تھے اور مجھے بچوں کو ٹیوشن پڑھانے کے لیے کہتے تھے۔ وہیں سے تدریس کے لیے میرا شوق پیدا ہوا، اور پھر میں اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ ساتھ پڑوس کے بچوں کو بھی پڑھانے لگی۔ تدریس کا یہ سلسلہ کچھ اس طرح آگے بڑھا کہ آج میں سرکاری اسکول میں ٹیچر ہوں۔ مستقل ملازمت سے قبل میں نے پٹنہ کے 2 پرائیویٹ اسکولوں میں بھی تقریباً 6 سالوں تک تدریس کی ذمہ داری نبھائی۔
گزرتے وقت کے ساتھ تدریس سے میری دلچسپی اس لیے بھی بڑھتی گئی کیونکہ مجھے اکثر کچھ نیا سیکھنے کو ملتا تھا۔ نئی کتابیں اور نئی جانکاریاں مجھے مزید سیکھنے کی ترغیب دیتی رہیں۔ اس طرح میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ ایک استاد بھی طالب علم ہی ہوتا ہے۔ نصاب بدلتا ہے، ٹیکنالوجی بدلتی ہے اور ان کے ساتھ ساتھ استاد کو بھی ایک اچھے طالب علم کی طرح خود کو اپڈیٹ کرنا ہوتا ہے۔
میری خوش قسمتی یہ ہے کہ مجھے اسکولوں میں اچھے رفیق کار بھی ملے۔ موجودہ وقت میں میرے ساتھی ٹیچر استاد غیاث الدین احمد ایک نہایت ایماندار اور محنتی شخص ہیں، جو اردو زبان پر مہارت رکھتے ہیں۔ انگلش ٹیچر گیتا سنہا خوش مزاج شخصیت کی ملکہ ہیں جو ہمیشہ ماحول کو خوشگوار بنا دیتی ہیں۔ اسی طرح سماجی علوم کی ٹیچر کلیانی سنہا سادگی پسند اور مددگار طبیعت کی حامل ہیں۔ سائنس کے استاد رام بابو رجک اصول و ضوابط پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ساتھی اساتذہ کو بھی اس کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں۔ دیگر اساتذہ بھی تدریسی ذمہ داری ایمانداری کے ساتھ نبھاتے ہیں اور اچھے اخلاق کے مالک ہیں۔
پرائمری و مڈل اسکول کے بچوں کو پڑھاتے وقت سب سے بڑا چیلنج کیا ہوتا ہے؟
پرائمری و مڈل اسکول کے بچوں کو پڑھاتے وقت اساتذہ کے سامنے کئی بڑے چیلنجز ہوتے ہیں۔ یہ بچے جس عمر کے ہوتے ہیں، ان کو پڑھانے کے لیے علمی قابلیت سے زیادہ صبر اور سمجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھیں 40 منٹ تک ایک جگہ بٹھا کر رکھنا اور ان کی دلچسپی برقرار رکھنا ایک سخت امتحان ہوتا ہے۔ اگر سبق دلچسپ نہ ہو تو بچے فوراً اُکتا جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ہی کلاس میں مختلف ذہنی سطح کے بچے ہوتے ہیں۔ کچھ بہت جلدی سیکھ لیتے ہیں، جبکہ کچھ کو بار بار سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے کی ضرورت کے مطابق متوازن رفتار برقرار رکھنا ایک مشکل کام ہے۔
کلاس میں نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے دوستانہ ماحول بنانا بھی ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ دراصل اس عمر کے بچے اپنی شناخت بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات وہ باغیانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں موبائل اور انٹرنیٹ نے بھی بچوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ انھیں اسکرین سے ہٹا کر کتاب کی طرف مائل کرنا اور لکھنے کے لیے کہنا مشکل امر ثابت ہوتا ہے۔ پرائمری و مڈل کلاس میں پڑھانے والے اساتذہ کے لیے بچوں کے اندر سیکھنے کا شوق پیدا کرنا اور ان کی کردار سازی بھی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمارے اسکول میں چونکہ بیشتر غیر تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھنے والے بچے ہیں، اس لیے انھیں گارجین کا تعاون بھی نہ کے برابر ملتا ہے۔
اسکول میں اُردو تعلیم کا ماحول کیسا ہے؟ بچوں میں دیگر موضوعات کے مقابلے اُردو کے تئیں کیسا رجحان دیکھتی ہیں؟
سبھی سرکاری اسکولوں کی طرح یہاں بھی اردو کے فروغ کے لیے باقاعدہ ایک ڈھانچہ موجود ہے۔ اردو کو بطور دوسری زبان پڑھایا جاتا ہے اور حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اردو کی درسی کتابیں ہمارے اسکول میں بھی دستیاب ہیں۔ یہ کتابیں جدید تر علمی تقاضوں کے مطابق تیار کی گئی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہمارے اسکول میں اردو کی تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہے۔ قومی تہواروں اور دیگر مواقع پر اردو نظم، تقاریر، شعر و شاعری وغیرہ کے ذریعہ بچوں میں اردو زبان کے تئیں دلچسپی پیدا کی جاتی ہے۔
درحقیقت دیگر موضوعات کی طرح ہی بچوں میں اردو سیکھنے کا رجحان بھی موجود ہے۔ حتیٰ کہ سنسکرت پڑھنے والے کئی بچے بھی اردو سیکھنے میں دلچسپی دکھاتے ہیں، اور سیکھتے بھی ہیں۔ ہمارے اسکول کے بچے اکثر گھروں میں مقامی بولیاں بولتے ہیں، اس لیے انھیں ’کتابی اردو‘ سمجھنے میں تھوڑی دقت ہوتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہوتا ہے کہ اردو پڑھاتے ہوئے اسے مقامی زبان سے جوڑیں تاکہ بچوں کے لیے سمجھنا آسان ہو جائے۔
والدین اور اساتذہ کے درمیان رابطہ کتنا اہم ہے، اور آپ اسے کیسے برقرار رکھتی ہیں؟
تعلیمی سفر میں استاد اور والدین کا باہمی رابطہ ایک مثلث کی مانند ہے، جس کا تیسرا سرا طالب علم ہے۔ جب یہ دونوں فریق ایک ہی صفحے پر ہوتے ہیں تو بچے کی تعلیمی اور اخلاقی نشو و نما میں حائل رکاوٹیں تیزی سے دور ہوتی ہیں۔ استاد اور والدین کا رابطہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ استاد بچے کا تعلیمی پہلو دیکھتا ہے جبکہ والدین اس کے گھریلو رویے سے واقف ہوتے ہیں۔ دونوں کے تبادلۂ خیال سے بچے کی شخصیت کا مکمل خاکہ سامنے آتا ہے۔ اگر بچہ کسی ذہنی دباؤ یا تعلیمی کمزوری کا شکار ہے تو بروقت رابطہ نقصان سے بچا سکتا ہے۔ ایک فعال استاد مختلف طریقوں سے والدین کو تعلیمی عمل کا حصہ بناتا ہے۔ میں بھی ٹھیک اسی طرح اسے برقرار رکھتی ہوں۔ مثلاً باقاعدہ ملاقاتیں (پی ٹی ایم) کی جاتی ہیں، اور یہ ملاقاتیں صرف ریزلٹ کے موقع پر نہیں ہوتیں بلکہ ہر ہفتہ کو کسی نہ کسی گارجین سے ملاقات کی جاتی ہے اور بچے کی خوبیوں و خامیوں کو سامنے رکھا جاتا ہے۔
میں والدین سے رابطہ کے لیے جدید ذرائع کا استعمال کرنا پسند کرتی ہوں۔ سیشن کے آغاز سے ہی طلبا کے سرپرستوں کے نمبرز اپنے موبائل میں سیو (محفوظ) کرنا شروع کر دیتی ہوں اور واٹس ایپ سے جوڑ لیتی ہوں۔ اس واٹس ایپ گروپ پر ہر طرح کی سرگرمی سے متعلق جانکاری ڈالتی ہوں تاکہ بچوں کے والدین باخبر رہیں۔ بچہ اگر کوئی اچھا کام کرتا ہے تو والدین کو پیغام بھیج کر اس کی تعریف کرتی ہوں۔ ساتھ ہی والدین کے مشوروں کو اہمیت دیتی ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک کامیاب استاد وہی ہے جو والدین کو اپنا مددگار سمجھے، نہ کہ ناقد۔ جب یہ دونوں فریق ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور مسلسل رابطے میں رہتے ہیں تو اس کا براہ راست فائدہ طالب علم کو ہوتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined