
نئی دہلی: ہندوستانی فوج میں عسکری رول کے لئے خواتین کی بھرتی کے سلسلے میں چلنے والی بحث کے درمیان برطانوی آرمی کی سب سے سینئر خاتون افسر میجر جنرل سوزین ریج کا خیال ہے کہ خواتین کو عسکری رول میں اپنی مہارت دکھانے کا موقع ملنا چاہئے اور برطانوی آرمی نے حال ہی میں اس سمت میں بڑی پہلی کی ہے۔
میجر جنرل ریج برطانوی آرمی میں بھرتی ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ وہ برطانوی فوج میں میجر جنرل کی رینک تک پہنچنے والی بھی پہلی خاتون افسر ہیں۔ 1992میں شارٹ سروس کمیشن کے بعد فوج کی لیگل سروس میں بھرتی ہونے والی میجر جنرل ریج 26سال کا طویل سفر طے کرکے اب لیگل سروس کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔
Published: undefined
رائے سینا ڈائلوگ میں حصہ لینے یہاں آئیں میجر جنرل ریج نے یواین آئی کے ساتھ خصوصی بات چیت میں فوج میں اپنے شروعاتی دنوں کو یادکرتے ہوئے کہا کہ جب وہ بھرتی ہوئیں تو اپنی یونٹ میں اکیلی تھیں اور انہیں 1992 میں ہی انفینٹری بٹالین کے ساتھ اٹیچمنٹ پر بھیجا گیا تھا۔اس وقت یونٹ میں سبھی مرد جوان اور افسر تھے اور وہ اکیلی خاتون تھیں۔فوج میں ڈھائی دہائی سے بھی لمبا وقت گزار چکیں میجر ریج نے کہا کہ اس دوران انہیں اپنی مہارت دکھانے کے متعدد مواقع ملے جن کا انہوں نے فائدہ بھی اٹھایا۔
میجر جنرل نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں حالات بدلے ہیں جس سے چیزیں ہر روز بدل رہی ہیں اور خواتین انفینٹری اور آرمڈ کور میں بھی داخل ہورہی ہیں۔برطانوی فوج نے اس سمت میں بڑی پہل کی ہے اور گزشتہ کرسمس سے انفینٹری اور آرمڈ کور میں بھی خواتین جوانوں اور افسروں کی بھرتی شروع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ رائل انجینئرس ،لوجسٹکس اور سنگل وغیرہ کور میں خواتین پہلے سے کام کررہی تھیں اور وہ اپنے آپ کو محدود عسکری کردار میں ہی خیال کرتی تھیں لیکن اب وہ پیدل ٹکڑی میں شامل ہوکر مورچے بھی سنبھالیں گی۔یہ خواتین کے لئے اچھا موقع ہےاور وہ اس کا فائدہ اٹھاکر اپنےآپ کو ثابت کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو نئے کردار کےلئے کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے اور بھرتی کے لئے انہیں ان سبھی ضابطوں پر کھرا اترنا ہوگا جو مردوں کےلئے طے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined