عالمی خبریں

امریکہ کا ایران پر حملہ، پورے مشرق وسطیٰ میں ہائی ایلرٹ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امن معاہدے پر بات چیت میں بہت زیادہ وقت لیا ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

امریکا نے ایران پر دوبارہ حملے کیے ہیں۔امریکی  صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی وارننگ کے بعد امریکی فوج نے کئی اہم ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں نے بھی امریکی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ایجنسی نے بتایا کہ ایران کے جزیرہ کش اور بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

Published: undefined

امریکی سینٹرل کمانڈنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایران پر حملے کی تصدیق کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈنے بتایا کہ امریکی فوج نے کمانڈر انچیف کے حکم پر مشرقی معیاری وقت (EST) شام 5:15 پر ایران کے اندر کئی اہداف پر حملے شروع کیے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ سخت کارروائی ایران کی مسلسل جارحیت کا براہ راست جواب ہے۔

Published: undefined

امریکی فضائی حملے کے فوراً بعد ایران کے سیریک اور مناب علاقوں سے بڑے دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مقامی ایرانی میڈیا اور مہر نیوز ایجنسی کے مطابق جوابی کارروائی کی تیاری کے لیے ملک کے کئی حصوں میں اینٹی ایئر کرافٹ اور فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا۔ اس دوران جزیرہ کش پر کئی نامعلوم دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔

Published: undefined

ایجنسی کا کہنا ہے کہ کش جزیرے پر نامعلوم آوازیں سنی گئیں۔ جس کے بعد صوبہ فارس میں فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا۔ تسنیم خبررساں ادارے نے ایک اعلیٰ فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی مسلح افواج آج رات کسی بھی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

Published: undefined

ایرانی عسکری ذرائع نے امریکہ کو سختی سے خبردار کیا کہ کسی بھی اشتعال انگیز اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی کارروائی کی صورت میں کئی نئے امریکی مفادات اور اڈوں کو براہ راست اس کے فوجی ریڈار سے نشانہ بنایا جائے گا۔

Published: undefined

اس فوجی کشیدگی کے درمیان اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے بھی ملک کی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکیوں یا طاقت کے استعمال سے امریکہ کے ساتھ کوئی دیرپا معاہدہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران نے کبھی دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کیے اور نہ ہی وہ کبھی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالے گا۔

Published: undefined

اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے امن معاہدے پر بات چیت میں بہت زیادہ وقت لیا ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے بدھ کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی ایک فولادی دیوار کی مانند ہے، ہماری رضامندی کے بغیر کوئی بھی اسے عبور نہیں کر سکتا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined