عالمی خبریں

ایران پر حملے سے خالی ہونے لگا امریکی خزانہ! سامنے آئے چونکا دینے والے اعداد و شمار

ایران کے خلاف جاری جنگ امریکہ کے لیے مہنگی ثابت ہونے لگی ہے کیونکہ اب تک صرف 15 روز کی لڑائی میں امریکہ کے 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ&nbsp;ٹرمپ </p></div>

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ

 

 ایران، امریکہ۔ اسرائیل کے درمیان جاری جنگ 17 ویں دن میں داخل ہوچکی ہے۔ اب تک ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرکے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ وہیں امریکہ، اسرائیل کے ساتھ مل کر تہران سے اصفہان تک بی 52 بمبار طیاروں سے بمباری کر رہا ہے۔ امریکہ کے بم ایرانی فوجی اڈوں کو تباہ کر رہے ہیں تو وہیں ایران بھی میزائلوں اور ڈرونز سے ایسے ہی جوابی حملے کر رہا ہے۔ اس درمیان اب یہ سوال بھی گردش کررہے ہیں کہ امریکہ نے ایران کے خلاف حملے پر اب تک کتنا خرچ کیا ہے؟۔

Published: undefined

ایران کے خلاف جاری جنگ امریکہ کے لیے مہنگی ثابت ہونے لگی ہے کیونکہ اب تک 15 روز کی لڑائی میں امریکہ کے 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دیا ہے۔ ایران سے جاری جنگ کے درمیان وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے اتوار کے روز امریکی ٹی وی پروگرام فیس دی نیشن میں انکشاف کیا کہ امریکہ نے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔

Published: undefined

پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے تاہم کیون ہیسٹ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔  یو ایس نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسٹ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا امریکہ کو کانگریس سے مزید فنڈنگ ​​کی درخواست کرنے کی ضرورت پڑے گی؟ اس سوال کے جواب میں ہیسیٹ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ ہمارے پاس فی الحال وہ سب کچھ ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ کیا ہمیں اور زیادہ پیسوں کے لیے کانگریس کے پاس واپس جانا ٖپڑے گا؟ یہ ایک ایسا موضوع  جس کی تحقیقات رسل ووٹ اور او ایم بی کریں گے۔ بتاد ںی کہ اوایم بی امریکہ کی انتظامیہ اور بجٹ آفس ہے جس کے ڈائریکٹر رسل ووٹ ہیں۔

Published: undefined

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد ہی ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے، جس سے جنگ کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ادھرایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں بھی شدید بے چینی کا شکار ہیں کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔

Published: undefined

تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں امریکہ خود بھی بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے ایران کی کارروائیوں سے امریکی معیشت کو ماضی کی طرح شدید نقصان نہیں پہنچے گا۔ دوسری طرف جنگ کے مقاصد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی بات کر رہی تھی، بعد میں میزائل صلاحیت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا، جبکہ اب ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined