عالمی خبریں

امریکی عدالت نے ایچ-1 بی ویزا پر ایک لاکھ ڈالر فیس ختم کی، کئی ریاستوں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا

وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے ایچ-1 بی ویزا درخواستوں پر عائد ایک لاکھ ڈالر فیس کو غیر قانونی قرار دے کر ختم کر دیا، جسے کئی ریاستوں نے تعلیم، تحقیق اور صنعت کے لیے بڑی راحت بتایا

<div class="paragraphs"><p>ایچ ون بی ویزا / علامتی تصویر</p></div>

ایچ ون بی ویزا / علامتی تصویر

 

واشنگٹن: امریکہ کی متعدد ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے وفاقی عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے ایچ-1 بی ویزا درخواستوں پر عائد ایک لاکھ ڈالر کی فیس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کمپنیوں، جامعات، اسپتالوں اور تحقیقی اداروں کے لیے بڑی راحت ثابت ہوگا جو اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد پر انحصار کرتے ہیں۔

Published: undefined

میساچوسٹس کی امریکی ضلعی عدالت نے اپنے حتمی فیصلے میں اس فیس کو کالعدم قرار دیا۔ یہ فیس 21 ستمبر 2025 کے بعد جمع کرائی جانے والی تمام نئی ایچ-1 بی ویزا درخواستوں پر نافذ کی گئی تھی۔ مختلف ریاستوں کے اتحاد نے اس پالیسی کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر انتظامیہ کو اس نوعیت کی فیس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

واشنگٹن ریاست کے اٹارنی جنرل نک براؤن نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ریاست کو خصوصی مہارت رکھنے والے افراد کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق یہ کامیابی واشنگٹن کو ان تحقیقی شعبوں میں اپنی برتری برقرار رکھنے میں معاون ہوگی جو جدید اور تیزی سے ترقی کرنے والی صنعتوں کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔

Published: undefined

نک براؤن نے کہا کہ اگر اس فیس کو برقرار رکھا جاتا تو واشنگٹن کی سرکاری ایجنسیوں، سرکاری جامعات اور کالجوں پر بھاری مالی بوجھ پڑتا۔ ان کے دفتر کے مطابق ریاست کی 30 سے زائد سرکاری ایجنسیوں، جامعات اور کالجوں میں تقریباً 500 ایچ-1 بی ویزا رکھنے والے افراد خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ اس اضافی مالی بوجھ کے باعث تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور طب جیسے اہم شعبوں میں ماہر افراد کی خدمات حاصل کرنا دشوار ہو جاتا۔ ان کے مطابق عالمی صلاحیتوں تک رسائی برقرار رکھنا ریاست کی تعلیمی، سائنسی اور اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

Published: undefined

کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل روب بونٹا، جن کے دفتر نے اس مقدمے میں ریاستوں کے اتحاد کی قیادت کی، نے کہا کہ عدالت نے اس پالیسی کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ ڈالر کا یہ ٹیکس غیر قانونی اور غیر معمولی طور پر مہنگا تھا، جو امریکہ کی اس صلاحیت کو متاثر کرتا تھا جس کے ذریعے ملک اعلیٰ مہارت رکھنے والی عالمی صلاحیتوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔

روب بونٹا کے مطابق یہی باصلاحیت افراد امریکی معیشت کو مضبوط بنانے، جدت کو فروغ دینے اور صحت، تعلیم اور دیگر اہم شعبوں میں افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ کیلیفورنیا کاروبار، تحقیق اور عالمی صلاحیتوں کے لیے کھلا رہے گا اور ضروری خدمات کے لیے مضبوط اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی یقینی بنائے گا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined