عالمی خبریں

ایرانی حملوں کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد منظور، خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خلیجی ممالک پر ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے قرارداد منظور کر لی۔ قرارداد 13 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خلیجی ممالک پر ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کرلی ہے۔ اس قرارداد کو 13 ووٹوں سے منظوری ملی جبکہ چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد پیش کیے جانے کے بعد تہران نے سلامتی کونسل کے کھلے عام غلط استعمال کی مذمت کی۔

یہ قرارداد بحرین کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس میں خلیجی ممالک پر ایران کے حالیہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اقوام متحدہ میں بحرین کے مستقل نمائندے جمال فارس الرووائی نے اس سے قبل کہا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے اجتماعی طور پر ایران کی جانب سے داغی گئی 954 سے زیادہ میزائلوں، 2500 ڈرون اور 17 طیاروں کو روک لیا ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ 6 رکن ممالک پر ہونے والے ان حملوں نے تجارت اور سمندری راستوں کو متاثر کیا ہے جس کے باعث علاقائی اور عالمی معیشت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے رہائشی عمارتوں، خوراک کی تقسیم کے مراکز، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، توانائی کے مراکز اور دیگر اہم شہری ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔

اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کے مستقل نمائندے محمد ابوشہاب نے کہا کہ ان کے ملک نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ اس کی سرزمین، فضائی حدود یا علاقائی پانی ایران پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ اس کے باوجود ایران نے متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امارات نے اپنے دفاعی وسائل استعمال کرتے ہوئے ان حملوں کا مقابلہ کیا اور اگر یہ صلاحیت موجود نہ ہوتی تو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوسکتا تھا۔ ان کے مطابق ان حملوں سے 25 ممالک کے شہری متاثر ہوئے ہیں۔

Published: undefined

قرارداد میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن پر ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان ممالک کے خلاف اپنے تمام حملے فوری طور پر بند کرے۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق پر بھی زور دیا گیا ہے۔

بحرین کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف شہری آبادی، اہم بنیادی ڈھانچے اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر عاصم افتخار احمد نے اس قرارداد کی حمایت میں کہا کہ 28 فروری کو ایران پر ہونے والے حملوں کے بعد علاقائی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے اور عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

Published: undefined

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات پر حملوں میں کم از کم دو پاکستانی شہری ہلاک ہوئے جبکہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی بھی خطرے میں ہیں۔ ان کے مطابق ایندھن کی فراہمی اور فضائی رابطوں میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں۔

ادھر فرانس کے نمائندے جیروم بونافون نے کہا کہ موجودہ کشیدگی میں ایران بڑی حد تک ذمہ دار ہے اور فرانس کو طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تشویش رہی ہے۔ سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں خلیجی ممالک اور اردن کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے لیے حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے عزم کو بھی دہرایا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined