عالمی خبریں

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اسرائیلی جیلوں میں عصمت دری، جنسی زیادتی اور جبری برہنہ ہونے کا الزام

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے خلاف سنگین الزامات لگائے گئے ہیں، جن میں عصمت دری، جنسی زیادتی اور فلسطینی قیدیوں کو جبری برہنہ کرنا شامل ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ نے اسرائیل اور اقوام متحدہ کے درمیان ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد اور ہراساں کرنے کے متعدد واقعات کیے۔ جس کے بعد اسرائیل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے دفتر سے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد کے 31 تصدیق شدہ واقعات کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں عصمت دری، عصمت دری کی کوشش، پرائیویٹ پارٹس پر تشدد، جبری لباس اتارنے، ذلت آمیز تلاشی اور جنسی ہراسانی شامل ہیں۔

Published: undefined

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے معاملات میں مردوں اور لڑکوں کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ خواتین قیدیوں کو ریپ، جبری برہنہ کرنے اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات مختلف حراستی مراکز، جیلوں اور تفتیشی مراکز میں پیش آئے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کچھ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں۔

Published: undefined

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو مناسب رسائی فراہم نہیں کی جس سے بہت سے معاملات میں آزادانہ تحقیقات میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد اور توہین آمیز سلوک کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

Published: undefined

رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیل نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ ہم اب آپ کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حماس جیسی تنظیموں کی فہرست میں اسرائیلی فوجیوں کو شامل کرنا ناانصافی ہے۔

Published: undefined

اقوام متحدہ نے اپنے نتائج کا دفاع کیا ہے۔ سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے واضح طور پر کہا، "سیکرٹری جنرل اپنی رپورٹ پر قائم ہیں اور کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔" یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کو غزہ جنگ اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اس کے سلوک پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر اسرائیل اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ (انپٹ بشکریہ نیوز پورٹل ’آج تک‘)

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined