عالمی خبریں

ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کو تگڑا جھٹکا: نیویارک کورٹ کا ریفنڈ پر بڑا فیصلہ، کمپنیوں کو رقم واپس کرنے کا حکم

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کے بعد امریکی حکومت اب تک 130 بلین ڈالر حاصل کر چکی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ٹرمپ حکومت کو مجموعی طور پر 175 بلین ڈالر تک کی واپسی کرنی پڑ سکتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

امریکہ میں ٹیرف کا تنازع ایک اہم موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب نیویارک کی وفاقی عدالت نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کو تگڑا جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جن کمپنیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ درآمدی محصولات ادا کیے تھے، انہیں اب رقم واپس کی جائے گی۔ امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت کے جج رچرڈ ایٹن نے کہا کہ تمام درآمد کرنے والی کمپنیاں امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا فائدہ پانے کی حقدار ہیں جس میں گزشتہ ماہ ٹرمپ کے کئی ٹیرف کو غیرآئینی بتایا گیا تھا۔

Published: undefined

امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت کے جج رچرڈ ایٹن نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے تمام درآمد کنندگان اس فیصلے سے مستفید ہونے کے حقدار ہیں۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے امریکی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت عائد کردہ ٹیرف آئین کے خلاف ہیں۔

Published: undefined

اپنے فیصلے میں جج ایٹن نے کہا کہ وہ اکیلے آئی ای ای پی اے ٹیرف کی واپسی کے لیے مقدمات کی سماعت کریں گے۔ اس سے اب یہ صاف ہوگیا ہے کہ کمپنیوں کو ٹیرف واپس کرنے کا عمل کیسے انجام دیا جائے گا جب کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ اس پر اٹارنی ریان مجوراس نے کہا کہ حکومت ممکنہ طور پر اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی یا رقم واپسی کے عمل کو روکنے کے لیے مہلت مانگے گی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ امریکی حکومت اب تک ان ٹیرف سے 130 بلین ڈالر حاصل کر چکی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ حکومت کو مجموعی طور پر 175 بلین ڈالر تک کی واپسی کرنی پڑ سکتی ہے۔ ایسے میں یہ فیصلہ خاص طور پر ایٹموس فلٹریشن ناشول، ٹینیسی کی کمپنی کے معاملے میں آیا ہے جس نے ٹیرف کی واپسی کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ کمپنی فلٹریشن اور فلٹریشن مصنوعات تیار کرتی ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ جب کوئی سامان امریکہ میں آتا ہے تو یوایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن اس کا آخری حساب کرتا ہے، جسے لیکویڈیشن کہتے ہیں۔ لیکویڈیشن کے بعد درآمد کنندگان کو 180 دن کا وقت ملتا ہے جس کے اندر وہ ٹیرف پر اعتراضات درج کراسکتے ہیں۔ اس کے  بعد یہ حساب قانونی طور سے حتمی مانا جائے گا۔ جج نے حکم دیا کہ کسٹمز ان ٹیرف کو اکٹھا کرنا بند کرے جو سپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دیئے ہیں اور اگر کوئی سامان پہلے ہی لیکویڈیشن کے عمل سے گزر چکا ہے تو اس کا حساب بغیر ٹیرف پھر سے کیا جائے گا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد نیویارک لا اسکول کے پروفیسر بیری ایپلٹن نے کہا کہ یہ درآمد کنندگان اور صارفین کے لیے بہت اچھا فیصلہ ہے۔ اس سے کسٹم بروکرز کی بھی مصروفیت بڑھے گی اورعدالت کے لیے عمل آسان ہوگا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined