
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس
واشنگٹن/تہران: آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو تیل بردار جہازوں سے مبینہ طور پر فیس وصول کرنے اور ان کی آمد و رفت محدود کرنے پر سخت وارننگ دی ہے، وہیں ایران نے بھی امریکہ پر دباؤ ڈالتے ہوئے اسرائیل کو سفارتی عمل متاثر کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو اجازت دینے میں غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران واقعی ٹینکروں سے فیس وصول کر رہا ہے تو اسے فوری طور پر یہ عمل بند کرنا ہوگا کیونکہ یہ کسی بھی سمجھوتے کا حصہ نہیں تھا۔ ٹرمپ کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف جنگ بندی کی روح کے خلاف ہیں بلکہ عالمی توانائی سپلائی کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
Published: undefined
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ جنگ بندی کے بعد اس اہم سمندری راستے سے محدود تعداد میں ہی جہاز گزر سکے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کو بحر عرب سے جوڑتی ہے، عالمی تیل سپلائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اور یہاں کسی بھی رکاوٹ کا براہ راست اثر عالمی منڈیوں پر پڑتا ہے، خاص طور پر ان ممالک پر جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، جن میں ہندوستان بھی شامل ہے۔
دوسری جانب ایران نے ان الزامات کے جواب میں محتاط موقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح کیا کہ جہازوں کی محفوظ آمد و رفت ممکن ہے، تاہم اس کے لیے ایران کی فوج کے ساتھ ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اب تک ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے اور اگر امریکہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے تو محدود مدت کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
ایرانی وزیر خارجہ نے ایک اور اہم بیان میں امریکہ کو متنبہ کیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو سفارتی عمل کو نقصان پہنچانے سے روکے۔ عراقچی نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اگر اسے کمزور کیا گیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ نیتن یاہو کے خلاف جاری مقدمات اور علاقائی حالات اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کہا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور لبنان سمیت پورا خطہ جنگ بندی کا حصہ ہونا چاہیے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں کا موقف ہے کہ جنگ بندی کو محدود جغرافیائی دائرے تک رکھنا مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔
Published: undefined
ادھر ایران نے روس، فرانس، اسپین اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ جنگ بندی کو مستحکم کیا جا سکے۔ یورپی ممالک نے عمومی طور پر سفارتی عمل جاری رکھنے پر زور دیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی حال ہی میں نافذ ہوئی ہے، اور اسی سلسلے میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آئندہ دنوں میں اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ تاہم زمینی حالات اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان عدم اعتماد اب بھی برقرار ہے، جس کے باعث یہ جنگ بندی کسی بھی وقت دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined