
امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ سے دوبارہ مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے اور واشنگٹن نے اس پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم انہوں نے واضح کر دیا کہ گزشتہ ماہ طے پانے والی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان نافذ عارضی جنگ بندی مؤثر نہیں رہی۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی، جسے امریکہ نے قبول کر لیا، لیکن تہران کو صاف الفاظ میں آگاہ کر دیا گیا ہے کہ جنگ بندی اب برقرار نہیں رہی۔ ان کے مطابق امریکہ کا مؤقف اس معاملے پر بالکل واضح ہے۔
گزشتہ چند روز کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں اس سے قبل امریکی افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی اور مشرقی علاقوں میں متعدد مقامات پر کارروائیاں کی تھیں۔ ان تازہ حملوں نے دونوں ممالک کے درمیان قائم عارضی امن کو ختم کر دیا ہے۔
جون میں دونوں فریقوں کے درمیان چار ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی لڑائی روکنے کے لیے ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، لیکن حالیہ حملوں کے بعد یہ معاہدہ عملاً غیر مؤثر ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورت حال سے پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسی دوران قطر کے نمائندے ایران میں حکام کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ان مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق اختلافات سمیت ان مسائل پر بھی گفتگو کی جا رہی ہے جنہوں نے حالیہ کشیدگی کو جنم دیا۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت میں بھی سست روی دیکھی جا رہی ہے، جس نے عالمی منڈیوں میں توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب یہ تنازع امریکہ کی اندرونی سیاست میں بھی اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کو وسط مدتی انتخابات سے قبل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور عوامی بے چینی کا سامنا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث امریکی انتظامیہ پر سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مذاکرات کی ممکنہ بحالی کو اگرچہ سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان نے خطے میں مستقبل کے حالات سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔