
ڈونالڈ ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی لیک ہونے والی تفصیلات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ’حقیقت سے کوئی تعلق نہیں‘ اور یہ ان شرائط کی عکاسی نہیں کرتیں جن پر فریقین کے درمیان اتفاق ہوا تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت کے ساتھ ’نیک نیتی سے معاملہ کرنا ممکن نہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ لیک کی گئی معلومات گمراہ کن ہیں اور ایران کو جلد از جلد اپنا رویہ درست کرنا چاہیے۔
Published: undefined
یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا جب ایرانی ذرائع ابلاغ میں ایک ممکنہ معاہدے کی تفصیلات شائع ہوئیں۔ ان رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایران کو امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم امریکی حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، لیکن انہوں نے ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ معاہدے کے مندرجات کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ ان کے مطابق ابھی کسی حتمی دستاویز پر اتفاق نہیں ہوا۔
Published: undefined
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر وسیع حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا تھا۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا جبکہ آبنائے ہرمز کی آمدورفت بھی شدید متاثر ہوئی۔ اگرچہ اپریل میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، لیکن اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے دونوں جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے معاہدے کی جن شرائط کا ذکر کیا، ان میں ایرانی اثاثوں کی جزوی بحالی، تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی شامل ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران چاہتا ہے کہ کسی حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جائے۔
Published: undefined
دوسری جانب ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کے جوہری مواد کو تباہ کرنے یا ملک سے باہر منتقل کرنے اور جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی شرط شامل ہے۔ امریکی موقف کے مطابق ایران کو کسی بھی مالی فائدے سے قبل اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined