عالمی خبریں

شیئر لین دین کی تفصیلات ظاہر نہ کرنا ٹرمپ کو پڑا بھاری، جرمانہ عائد

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر مائیکروسافٹ، ایمیزون اور اینویڈیا کے شیئروں کی خرید و فروخت کی تفصیلات وقت پر ظاہر نہ کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا، جس سے نئے سوالات کھڑے ہو گئے

ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی 

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک بار پھر اپنے شیئر کاروبار اور سرمایہ کاری سرگرمیوں کے سبب تنازعہ میں گھر گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس اور سرکاری دستاویزات کے مطابق ٹرمپ نے مائیکروسافٹ اور ایمیزون کے کروڑوں ڈالر مالیت کے شیئر فروخت کرنے اور بعد میں دوبارہ خریدنے کی تفصیلات مقررہ مدت میں ظاہر نہیں کیں، جس کے باعث ان پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

Published: undefined

امریکی دفتر برائے سرکاری اخلاقیات میں جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق صدر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ایک ہزار ڈالر سے زیادہ مالیت کے کسی بھی شیئر لین دین کی اطلاع 45 دن کے اندر دینا ضروری ہوتی ہے۔ تاہم ٹرمپ مقررہ مدت کے اندر یہ معلومات فراہم نہ کر سکے، جس پر ان پر 200 ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس سے قبل بھی مارچ اور گزشتہ برس اگست میں اسی نوعیت کی تاخیر پر ان پر جرمانہ لگایا جا چکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے فروری میں مائیکروسافٹ اور ایمیزون کے لاکھوں ڈالر مالیت کے شیئر فروخت کیے تھے جبکہ مارچ میں دوبارہ انہی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے 10 فروری کو اینویڈیا کے شیئر بھی خریدے تھے۔ چند روز بعد اینویڈیا نے میٹا پلیٹ فارمز کے ساتھ ڈیٹا سینٹر منصوبے سے متعلق شراکت داری کا اعلان کیا، جس کے بعد کمپنی کے شیئروں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

Published: undefined

یہ معاملہ اس لیے بھی حساس سمجھا جا رہا ہے کیونکہ بعد میں امریکی محکمہ دفاع نے مائیکروسافٹ اور ایمیزون کی ٹیکنالوجی کو خفیہ کمپیوٹر نیٹ ورکس میں استعمال کرنے سے متعلق اہم معاہدوں کا اعلان کیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں صدر کی سرمایہ کاری مفادات کے تصادم سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہے۔

امریکہ میں واٹرگیٹ اسکینڈل کے بعد صدور اور نائب صدور کے لیے مالی مفادات سے متعلق سخت اصول بنائے گئے تھے تاکہ سرکاری فیصلوں پر ذاتی سرمایہ کاری کے اثرات سے بچا جا سکے۔ کئی سابق امریکی صدور نے منصب سنبھالنے سے پہلے اپنے شیئر فروخت کر دیے تھے یا اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ کے حوالے کر دیے تھے۔

Published: undefined

ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت سے قبل بھی اسی نوعیت کا انتظام کیا تھا، تاہم موجودہ دور میں انہوں نے اپنی سرمایہ کاری مکمل طور پر الگ نہیں کی۔ ان کے اثاثے اس وقت ایک ایسے ٹرسٹ میں رکھے گئے ہیں جسے ان کے بچے چلاتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ روایتی بلائنڈ ٹرسٹ جیسا نہیں کیونکہ ٹرمپ کو اپنی سرمایہ کاری کی نوعیت سے آگاہی ہونے کا امکان برقرار رہتا ہے۔

ٹرمپ آرگنائزیشن کی ترجمان کمبرلی بینزا نے کہا ہے کہ صدر کی سرمایہ کاری ایک تیسرے فریق کے ذریعے سنبھالی جاتی ہے اور نہ ہی ٹرمپ اور نہ ان کا خاندان سرمایہ کاری فیصلوں میں شامل ہوتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ نے 600 کروڑ ڈالر سے زیادہ آمدنی اور 1.6 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے ظاہر کیے تھے۔ دوسری جانب امریکہ میں عوامی عہدوں پر فائز رہتے ہوئے شیئر ٹریڈنگ کے خلاف سیاسی اور عوامی سطح پر مخالفت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined