
امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ٹیرف پالیسی کے ذریعے سخت قدم اٹھاتے ہوئے ہندوستان سے درآمد کی جانے والی سولر توانائی مصنوعات پر 126 فیصد ابتدائی درآمدی ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ ریسپروکل ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے تجارتی محاذ پر جارحانہ رویہ برقرار ہے۔
Published: undefined
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ تجارت نے ہندوستان کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا اور لاؤس سے آنے والی سولر مصنوعات پر بھی بھاری ٹیرف مقرر کیے ہیں۔ انڈونیشیا پر 86 سے 143 فیصد کے درمیان جبکہ لاؤس پر 81 فیصد ابتدائی ٹیرف طے کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان ممالک کے برآمد کنندگان کو غیر ملکی سبسڈی حاصل ہوتی ہے جس کے باعث وہ امریکی مقامی صنعت کاروں کے مقابلے میں کم قیمت پر مصنوعات فروخت کرتے ہیں، جس سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچتا ہے۔
Published: undefined
محکمہ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں امریکہ نے ہندوستان سے تقریباً 792.6 ملین ڈالر مالیت کی سولر مصنوعات درآمد کیں۔ گزشتہ چند برسوں میں اس تجارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مزید برآں، ہندوستان، انڈونیشیا اور لاؤس سے مجموعی طور پر تقریباً 4.5 ارب ڈالر مالیت کی سولر مصنوعات امریکہ درآمد کرتا رہا ہے۔ رواں برس کی پہلی ششماہی میں امریکہ کے کل سولر ماڈیول درآمدات کا 57 فیصد حصہ انہی تین ممالک سے آیا، جس سے ان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
Published: undefined
نئے ٹیرف کے اثرات ہندوستانی سولر کمپنیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ واری انرجیز اور پریمیر انرجیز جیسی کمپنیاں، جن کے لیے امریکہ ایک بڑا برآمدی بازار رہا ہے، دباؤ میں آ سکتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر 126 فیصد کی شرح برقرار رہی تو ہندوستانی مصنوعات کی مسابقتی قیمت متاثر ہوگی اور برآمدی آرڈرز میں کمی آ سکتی ہے۔
Published: undefined
یاد رہے کہ 20 فروری کو امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت عائد ریسپروکل ٹیرف کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے تجارتی توسیع کے قانون کی دفعہ 122 کے تحت تمام ممالک پر 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا، جسے 24 گھنٹوں کے اندر بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا۔ یہ ٹیرف 150 دن تک نافذ العمل رہے گا اور اس کی توسیع کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined