
شام سے متعلق اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن کی سابق رکن ڈیل پونٹے نے ہفتے کے روز ایک سوئس اخبار سے گفتگو میں کہا ہے کہ شام میں ترکی کی فوجی مداخلت نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس عمل نے مسلح شامی تنازعے کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔
ترکی میں کردوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ
دوسری جانب انقرہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ فوجی آپریشن شام اور ترکی کے سرحدی علاقے سے امریکی فوجی دستوں کے انخلاء کے بعد شروع کیا گیا۔ ترکی کا کہنا ہے کہ ’وائی پی جی‘ ترُک ریاست کے خلاف سرگرم کُردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے منسلک ہے اور اس کی لڑائی ’’دہشت گروں‘‘ کے خلاف ہے۔
روانڈا اور سابق یوگوسلاویہ میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے والی سوئٹزرلینڈ کی سابق اٹارنی جنرل ڈیل پونٹے کے مطابق، ’’ایردوآن کی جانب سے شامی سرزمین پر کردوں کو ختم کرنے کے لیے حملہ ناقابل یقین ہے۔‘‘ سوئس اخبار ’شوائس آم ووخن اینڈے‘ سے انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ ترک صدر کے خلاف جنگی جرائم کے الزام کے تحت تفتیش کی جانی چاہیے۔
نسل کشی کے پچیس برس، روانڈا میں سو روزہ سوگ
امریکا سمیت نیٹو کے اتحادی ممالک کی جانب سے شمالی شام میں ترکی کی مداخلت پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ تاہم ڈیل پونٹے سمجھتی ہیں کہ یورپی ممالک کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں کے معاملے کی وجہ سے یورپی حکمران ترکی سے براہ راست تناؤ میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
ڈیل پونٹے ستمبر سن 2012 میں شام سے متعلق اقوام متحدہ کی تین رکنی تفتیشی کمیٹی کا حصہ رہ چکی ہیں۔ يہ کميٹی عراقی ايزدی برادی کی نسل کشی، کیمیائی ہتھیاروں کے حملے اور امدادی قافلوں پر بمباری کی تفتیش کے حوالے سے قائم کی گئی تھی۔ تاہم سکیورٹی کونسل کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ بيان کرتے ہوئے ڈی پونٹے اس کمیٹی سے دستبردار ہو گئی تھيں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔