
فائل تصویر آئی اے این ایس
ہزاروں آسٹریلیائی باشندے اتوار کو ملک بھر میں امیگریشن مخالف ریلیوں میں شامل ہوئے، مظاہروں کے لیے پروموشنل مواد کے ساتھ ہندوستانی تارکین وطن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکومت نے ان واقعات کو نفرت پھیلانے اور نئے نازی یعنی نو نازیوں سے منسلک قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔
Published: undefined
"مارچ فار آسٹریلیا" ریلیوں نے ہندوستانی نژاد باشندوں کو نشانہ بنایا ، جو اب آبادی کاتین فیصد سے زیادہ ہیں۔ " پانچ سالوں میں ہندوستانی تارکین وطن گزشتہ سو سالوں میں یونانیوں اور اطالوی تارکین وطن سے زیادہ آئے ہیں ۔ یہ صرف ایک ملک سے ہے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں اور ہجرت کا ثقافتی اثر ہوتا ہے۔ یہ کوئی معمولی ثقافتی تبدیلی نہیں ہے ۔آسٹریلیا کوئی اقتصادی زون نہیں ہے جس کا بین الاقوامی مالیات سے فائدہ اٹھایا جائے۔‘‘
Published: undefined
پروموشنل مواد پر مشتمل ایک پری ایونٹ فیس بک پوسٹ نے بھی ہندوستانیوں کو نشانہ بنایا اور کہا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی تعداد 2013 سے 2023 تک دگنی ہو کر تقریباً 845,800 تک پہنچ گئی ہے۔ مارچ فار آسٹریلیا کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ہجرت نے "ان بانڈز کو پھاڑ دیا ہے جس نے ہماری کمیونٹیز کو اکٹھا کیا تھا۔‘‘
Published: undefined
منتظمین نے خود کو "ایک نچلی سطح پر، بڑے پیمانے پر امیگریشن کو ختم کرنے والے ایک مشترکہ مقصد کے گرد آسٹریلوی باشندوں کو متحد کرنے کی ایک کوشش" کے طور پر بیان کیا اور دوسرے گروہوں سے روابط کی تردید کی ہے۔
Published: undefined
سڈنی، میلبورن، کینبرا اور دیگر شہروں میں بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔ سڈنی میں، 5,000 سے 8,000 کے درمیان لوگ، بہت سے لوگ قومی جھنڈوں میں لپٹے ہوئے، شہر کی میراتھن کے راستے کے قریب جمع ہوئے۔ میلبورن میں، مظاہرین ریاستی پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے سے قبل فلنڈرز اسٹریٹ اسٹیشن کے باہر آسٹریلیا کے جھنڈے اور امیگریشن مخالف پلے کارڈز کے ساتھ جمع ہوئے۔
Published: undefined
پولیس کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے مرچ کے اسپرے، لاٹھی اورآنسو گیس وغیرہ کا استعمال کیا۔ چھ افراد کو گرفتار کیا گیا، اور دو اہلکار زخمی ہوئےہیں۔ پولیس کے اندازے کے مطابق میلبورن کی ریلی اور جوابی مظاہروں میں پانچ ہزار افراد شامل تھے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined