عالمی خبریں

اسرائیل اور یہودیوں کی مخالفت امریکہ کو قبول نہیں، تنقید یا مخالف پوسٹ شیئر کرنے پر ویزا یا رہائش پرمٹ ہوگا منسوخ

یو ایس سی آئی ایس کے مطابق حماس، فلسطین، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی حمایت کرنے والے پوسٹ کو یہودی مخالف اشیاء کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ پالیسی فوری طور پر موثر ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

 جو لوگ اب امریکہ جانا چاہتے ہیں ان کے لیے وہاں جانا یا رہنا پہلے سے مشکل ہونے والا ہے۔ اگر آپ کے پاس ویلڈ امریکی ویزا یا گرین کارڈ ہے تو بھی آپ کو ٹرمپ انتظامیہ کی نئی امیگریشن پالیسیوں کے تحت امریکی ہوائی اڈوں پر حراست، بے دخلی یا ڈیوائس تلاشی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Published: undefined

امریکی شہریت اور امیگریشن سروس (یو ایس سی آئی ایس) جو کہ ہوم لینڈ سیکوریٹی محکمہ کی ایک ایجنسی ہے، نے کہا ہے کہ اسرائیل، اس کے شہریوں یا یہودی طبقہ کی تنقید کرنے والی پوسٹ شیئر کرنے پر بھی امریکی ویزا یا رہائش پرمٹ نہیں ملے گا۔

Published: undefined

امریکی امیگریشن افسروں نے کہا ہے کہ وہ اب سوشل میڈیا سرگرمیوں کی جانچ کریں گے اور ایسے لوگوں کو ویزا یا رہائش دینے سے انکار کر دیں گے۔ یہ پالیسی فوری طور پر موثر ہوگی اور طلبا ویزا اور امریکہ میں رہنے کے لیے مستقل رہائشی گرین کارڈ کی گزارشات پر نافذ ہوگی۔

Published: undefined

یو ایس سی آئی ایس کے مطابق حماس، فلسطین، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی حمایت کرنے والے پوسٹ کو یہودی مخالف اشیاء کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ویزا درخواست عمل کے دوران اسے ایک منفی عمل مانا جائے گا۔

Published: undefined

ڈپارٹمںٹ آف ہوم لینڈ سیکوریٹی (ڈی ایچ ایس) کی اسسٹنٹ سکریٹری فار پبلک افیئرس ٹریسیا میک لافلن نے کہا، ’’دنیا بھر کے دہشت گرد حامیوں کے لیے امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہمارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم انہیں ملک میں آنے دیں یا یہاں رہنے دیں۔ لافلن نے کہا، ’’کوئی بھی شخص سوچتا ہے کہ وہ امریکہ آ سکتا ہے اور یہودی مخالف تشدد اور دہشت گردی کی وکالت کرتے ہوئے رہ سکتا ہے تو پھر سے سوچ لے، یہ یہاں آپ کا خیرمقدم نہیں ہے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined