
ویڈیو گریب
مارک کارنی کو کینیڈا کا وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا ہے۔ لبرل پارٹی کے رہنما کو انتخاب میں 85٫9 فیصد ووٹ ملے۔ انہیں یہ ذمہ داری اس وقت سونپی گئی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ نے ٹیرف کی ڈیڈ لائن 4 اپریل تک بڑھا دی ہے۔ لیکن کینیڈا نے ٹرمپ کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ فی الحال دونوں ملکوں کے رشتے کافی خراب ہو چکے ہیں۔
Published: undefined
وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد مارک کارنی نے اپنے پہلے خطاب میں ٹرمپ کی پالیسیوں کی جم کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا، "کوئی ہے جو ہماری معیشت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، ڈونالڈ ٹرمپ نے ہم جو بناتے ہیں، بیچتے ہیں اور جس طرح سے ہم اپنی زندگی گزارتے ہیں، اس پر غیر مناسب ٹیرف لگائے ہیں۔ وہ کینیڈیائی خاندانوں، مزدوروں اور کاروباریوں پر حملہ کر رہا ہے اور ہم اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔"
Published: undefined
کارنی نے آگے کہا، "کینیڈا تب تک جوابی ٹیرف لگائے رکھے گا جب تک امریکہ کی طرف سے اسے عزت نہیں ملتی۔" کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کے ٹرمپ کے بیان پر کارنی نے کہا، "ہم نے اسے دنیا کا سب سے عظیم ملک بنایا ہے اور اب ہمارے پڑوسی ہمیں ہتھیانا چاہتے ہیں، ایسا بالکل نہیں ہو سکتا۔"
Published: undefined
کارنی نے بات چیت کے دوران مزید کہا، "امریکی ہمارے وسائل، پانی، ہماری زمین، ہمارا ملک چاہتے ہیں۔ اس کے بارے میں سوچیں، اگر وہ کامیاب ہو گئے تو وہ ہماری زندگی جینے کے طریقے کو ختم کر دیں گے۔ امریکہ ایک پگھلنے والا برتن ہے اور کینیڈیا ایک موزیک ہے۔ امریکہ کینیڈا نہیں ہے، کینیڈا کبھی بھی کسی بھی طرح، سائز یا شکل میں امریکہ کا حصہ نہیں ہوگا۔"
Published: undefined
امریکہ کے ہاورڈ یونیورسٹی سے معیشت کی پڑھائی کرنے والے مارک کارنی کو سال 2008 میں بینک آف کینیڈا کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سال 2012 میں یورومنی میگزین نے انہیں سنٹرل بینک گورنر آف دی ایئر اعلان کیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined