
ایران کی جانب سے شام میں باغیوں کے خلاف میزائل حملے(فائل فوٹو)
مغربی ایشیا میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ معاہدے اور مذاکرات کی باز گشت کے دورن امریکہ کی جانب سے ہفتے کے روز ایران کے خلاف کئے گئے حملے پر ایران کی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکہ کے 8 فوجی ٹھکانوں پر بڑا میزائل اور ڈرون حملہ کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ امریکہ کی طرف سے کی گئی جارحانہ کارروائی کا جواب ہے اوراسے انہوں نے ’فیصلہ کن جواب‘ کہا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’فوجی آپریشن مکمل کرنے‘ کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ کو جنگ دوبارہ شروع کرنے پر مجبور کیا گیا تو ’اسلامی جمہوریہ کا وجود ختم ہوسکتا ہے۔‘
Published: undefined
امریکہ نے ہفتے کے روز مسلسل دوسرے دن ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ یہ حملہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک آئل ٹینکر پر ڈرون حملے کے بعد کیا گیا۔ اس سے 2 ہفتے قبل طے پانے والے امن معاہدے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ایک صبح تقریباً 4.30 بجے پناما کے جھنڈے والے تیل ٹینکر ’ایم ٹی ککو‘ پر یکطرفہ ڈرون حملہ ہوا۔ یہ ٹینکر آبنائے ہرمز کے قریب 2 ملین بیرل سے زیادہ خام تیل لے کر گزر رہا تھا۔ امریکہ نے اس حملے کے لیے ایران کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔
Published: undefined
دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ صدر کی ہدایت پر یہ فوجی کارروائی کی گئی ہے۔ سینٹکام کے مطابق ایک دن پہلے بھی ایران سے متعلق حملے کے جواب میں امریکہ نے کارروائی کی تھی تاہم ایران کو جنگ بندی کی پاسداری کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس کے باوجود ایرانی فورسز نے پھر ایک ڈرون حملہ کیا، جس کے بعد امریکہ نے دوبارہ فوجی کارروائی کی۔
Published: undefined
خبروں کے مطابق امریکہ نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ ساحلی ریڈار اسٹیشنوں کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکی فوج نے کہا کہ یہ کارروائی صرف اور صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے جزیرے سیریک پر زور دار دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ علاقہ آبنائے ہرمز کے بہت قریب واقع ہے۔ اس کے علاوہ قشیم جزیرہ کے ایک گاؤں کو بھی امریکی میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ امریکی فوجی کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایران کو سخت دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی طیاروں نے جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کرنے پر ایران کے میزائل، ڈرون اسٹوریج اور ریڈار تنصیبات پر حملہ کیا۔
Published: undefined
اس دوران ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بتایا کہ امریکی حملوں کے جواب میں یہ آپریشن دوپہر 2 سے 3 بجے کے درمیان کیا گیا اس میں ان کی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس نے مل کر کام کیا۔ نشانے پر 8 اہم امریکی فوجی ٹھکانے تھے جن میں کویت کا علی السلیم ایئربیس اور بحرین میں موجود امریکہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈ کواٹر شامل ہیں۔ آئی آر جی سی نے کہا کہ ان تمام تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے تباہ کیا گیا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ حملہ اس لیے کیا کیونکہ دشمن اس سے قبل ایرانی پانیوں میں 5 ساحلی چوکیوں پر حملہ کر چکا ہے۔ ایران نے اس حملے کو ایک مشکوک جہاز کو روکنے کا بہانہ قرار دیا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined