
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی تعطل انتہائی نازک اور سنگین موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ تہران نے واشنگٹن پر امن کی کوششوں کو مکمل طور پر سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ فون پر براہ راست اور تفصیلی بات چیت کی ہے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ضرورت سے زیادہ مطالبات ہی جاری امن مذاکرات اور جنگ بندی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
Published: undefined
غیر ملکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بات چیت کے دوران امریکہ کے ارادوں پر سخت سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے لگاتار اپنے وعدوں کو توڑ کر، متضاد موقف اپنا کر اور فوجی جارحیت کا مظاہرہ کرکے سفارتی کوششوں کو ہٹیشہ کمزور کیا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ ان نامساعد حالات اور امریکی دباؤ کے ہتھکنڈوں کے باوجود تہران لگاتار جنگ بندی مذاکرات میں مثبت طور سے مشغول ہے اور مذاکراتی حل کی تلاش میں ہے۔ عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف فوجی حملوں کی دھمکی اور دوسری طرف امن کا ڈھونگ، امریکہ کے یہ متضاد اور دباؤ کے حربے اب کام نہیں آئیں گے۔ ایران اپنی خودمختاری کی قیمت پر کبھی بھی امریکہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
Published: undefined
دریں اثنا، سیکیورٹی محاذ پر ایک انتہائی سنسنی خیز اور پریشان کن خبر سامنے آرہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سنجیدگی سے ایران کے خلاف نئے فوجی حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے سی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا کہ جمعے کے روز امریکی انتظامیہ ایران پر حملوں کے ایک نئے دور کی تزویراتی تیاریوں میں مصروف تھی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
Published: undefined
اس ممکنہ فوجی کارروائی کی خبر ملتے ہی امریکی فوج اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے اپنے ’میموریل ڈے ویک اینڈ‘ کی تعطیلات اور منصوبے منسوخ کر دیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی ہفتے کے آخر میں نیو جرسی میں اپنے گولف ریزورٹ میں گزارنے اور اپنے بیٹے جونیئر ٹرمپ کی شادی میں شامل ہونے لا پروگرام منسوخ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد اور نازک حکومتی صورتحال کے پیش نظر ان کا اس وقت وائٹ ہاؤس میں موجود ہونا بالکل ضروری ہے۔
Published: undefined
دوسری طرف اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے اس پورے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گوٹریس نے کسی بھی ملک کی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا فوجی کارروائی کے خیال کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے دونوں فریقوں کو مغربی ایشیا کے خطے میں استحکام اور امن کی بحالی کے لیے دونوں ہی فریقوں سے صرف اور صرف سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی پرزور وکالت کی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined