
تصویر سوشل میڈیا
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں نو مہینے سے زیادہ وقت سے پھنسی سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی بُچ ولمور کو زمین پر لانے کے مشن کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے۔ امریکی خلائی ایجنسی 'ناسا' نے ان دونوں خلا بازوں کی واپسی کے مشن کو ملتوی کر دیا ہے۔ 'ناسا' کے ذریعہ بدھ کو اسپیس ایکس کرو-10 مشن ملتوی کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی سنیتا ولیمس کی واپسی کا انتظار مزید طویل ہو گیا ہے۔
Published: undefined
دراصل ناسا-اسپیس ایکس کرو-10 مشن دونوں خلابازوں کی جگہ پر ایک نئی ٹیم بھیجنے کے لیے مقرر تھا لیکن لانچ سے چار گھنٹے پہلے انجینئروں کو راکیٹ کے ایک اہم ہائیڈرولک سسٹم میں خرابی ملی جس کے بعد اس مشن کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
Published: undefined
ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا کرو ڈریگن خلاائی جہاز ان خلابازوں کو واپس لانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ کرو-10 مشن کے تحت چار خلائی مسافروں کو آئی ایس ایس بھیجا جانا تھا اور واپسی میں سنیتا ولیمس اور ولمور کو لانا تھا۔ یہ مشن 12 مارچ 2025 کو فلوریڈا کے کینڈی اسپیس سینٹر میں فالکن-9 راکیٹ کے ذریعہ لانچ ہونے والا تھا، لیکن لانچ پیڈ پر ہائیڈرولکس سے متعلق مسئلہ کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا۔
Published: undefined
اطلاع کے مطابق راکیٹ کی لانچنگ سے ٹھیک پہلے ٹیکنیشین گراؤنڈ ہائیڈرولک سسٹم کی جانچ کر رہے تھے۔ یہ عمل راکیٹ کے لانچ پیڈ پر محفوظ رکھنے والے دو میں سے ایک آرم کو ریلیز کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ 'ناسا' کے لانچ کمینٹیٹر ڈیرول نیل نے بتایا، "یہ مسئلہ گراؤنڈ سائڈ ہائیڈرولک سسٹم میں تھی، جبکہ راکیٹ اور اسپیس کرافٹ پوری طرح ٹھیک تھے۔"
Published: undefined
لانچ کیپسول میں بیٹھ چکے چاروں خلا بازوں کو آخری فیصلہ کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ لانچ کاؤنٹ ڈاؤن کے ایک گھنتے سے بھی کم وقت باقی رہتے اسپیس ایکس نے مشن کو ٹالنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ ابھی نئی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا ہے لیکن کمپنی نے اشارہ دیا ہے کہ اگلی کوشش جمعرات رات تک ہو سکتی ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلن مسک نے بائیڈن انتظامیہ کی تنقید کرتے ہوئے موقف پیش کیا تھا کہ 'ناسا' نے حالات کو حل کرنے کے لیے وافر کارروائی نہیں کی۔ حالانکہ 'ناسا' کا کہنا تھا کہ تحفظ اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
اے آئی سے بہتر شدہ