
پیڈرو سانچیز / آئی اے این ایس
میڈرڈ: اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایک بار پھر اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت یورپی یونین کے سامنے اسرائیل کے ساتھ جاری اسوسی ایشن معاہدہ ختم کرنے کی تجویز پیش کرے گی۔ انہوں نے یہ بیان اندلوسیا میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کے دوران دیا، جہاں انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب کے پیش نظر یورپی یونین کو اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
Published: undefined
پیڈرو سانچیز کے مطابق، منگل کے روز اسپین کی حکومت باضابطہ طور پر یورپی یونین کے سامنے یہ تجویز رکھے گی کہ اسرائیل کے ساتھ جون 2000 سے نافذ اسوسی ایشن معاہدہ ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ملک جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتا ہو، وہ یورپی یونین کا قابل اعتماد شراکت دار نہیں رہ سکتا۔
گزشتہ چند مہینوں کے دوران، خاص طور پر ایران سے متعلق کشیدگی کے بعد، اسپین کی حکومت اسرائیل پر شدید تنقید کر رہی ہے۔ پیڈرو سانچیز متعدد مواقع پر اسرائیل کی پالیسیوں کو عالمی اصولوں کے منافی قرار دے چکے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر بھی اسرائیل کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا تھا اور اسوسی ایشن معاہدہ معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
Published: undefined
آٹھ اپریل کو کیے گئے ایک بیان میں انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا تھا۔ اسی تناظر میں اسپین نے لبنان میں تعینات امن فوج پر حملوں کے خلاف اسرائیلی سفارت کاروں کو طلب کر کے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔
ادھر، 28 مارچ کے بعد ایران سے متعلق کشیدگی کے پس منظر میں اسپین کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں نمایاں تناؤ دیکھا گیا ہے۔ اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئیل الباریس نے پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر حملہ جدید تہذیب کی بنیادوں پر حملے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس وقت طاقت کے غلط استعمال، جبر اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف ایک بڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔
Published: undefined
انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو ایسے اقدامات کے بجائے دلیل، امن، باہمی سمجھ اور انسانی اصولوں پر مبنی عالمی قوانین کو ترجیح دینی چاہیے۔ اسپین کی حکومت مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کا حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سفارتی اور قانونی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اسپین نے حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی لڑاکا طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، جسے اس کے آزادانہ اور اصولی مؤقف کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پیڈرو سانچیز کا تازہ بیان اسی پالیسی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، جس میں بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدار کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined