عالمی خبریں

تباہ حال غزہ میں بھی ووٹ ڈالنے کے لیے لگی قطاریں، ووٹنگ کا عمل سمجھانے کے لیے بچوں کو بھی ساتھ لے کر پہنچے سرپرست

غزہ میں گزشتہ دو دہائیوں سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ مغربی کنارے میں سڑکوں، پانی اور بجلی کو مسائل کے طور پر بتایا جا رہا ہے، جبکہ غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>غزہ میں حملہ کی فائل تصویر، آئی اے این ایس</p></div>

غزہ میں حملہ کی فائل تصویر، آئی اے این ایس

 

گزشتہ 3 برسوں سے جنگ کا شکار غزہ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ اسرائیلی حملوں سے مکمل طور پر تباہ ہونے والے غزہ میں یہ منظر نمایاں ہے جہاں ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ مغربی کنارہ اور غزہ میں جاری ووٹنگ کو قیادت کی تبدیلی کے نقطہ نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اب یہاں سے حماس کی وداعی ہو سکتی ہے۔ غزہ میں گزشتہ 2 دہائیوں سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ مغربی کنارے میں سڑکوں، پانی اور بجلی کو مسائل کے طور پر بتایا جا رہا ہے، جبکہ غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے طویل عرصے کے بعد یہ انتخابات کرائے ہیں۔ یہاں بین الاقوامی ایجنسیاں بھی الیکشن کرانے کے مشورے دے رہی تھیں۔

Published: undefined

2006 سے یہاں صدارتی انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ رام اللہ میں مرکزی الیکشن کمیشن لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ غزہ کے دیر البلاح میں ہی 70 ہزار ووٹرز ہیں۔ مزید برآں، مغربی کنارے میں 10 لاکھ ووٹرز ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ ٹرن آؤٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی عوام اپنے ملک کی ترقی اور یہیں رہنا چاہتے ہیں۔ رام اللہ میں صبح سے ہی قطاریں دیکھی گئیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد اپنے بچوں کو بھی پولنگ اسٹیشنوں پر لے کر آئی تاکہ انہیں ووٹنگ کا عمل سمجھا سکے۔

Published: undefined

غزہ تو گزشتہ 3 سالوں میں تقریباً تباہ ہوچکا ہے۔ اس لیے پورے مغربی کنارے میں ووٹنگ کرائی گئی ہے لیکن صرف غزہ کے علاقے دیر البلاح میں۔ یہاں ووٹنگ ہو رہی ہے کیونکہ اسے غزہ کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم نقصان پہنچا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے زمینی حملہ نہیں کیا۔ ایک فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ اصل مقصد غزہ اور مغربی کنارے کو ایک سیاسی نظام کے تحت لانا ہے۔ اب تک غزہ میں حماس کی حکومت رہی ہے۔ اب اسے ہٹانے کی تیاریاں جاری ہیں۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل میں گھس کر زبردست حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں تقریباً 700 لوگ مارے گئے تھے اور تقریباً 200 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس میں تقریباً 50 ہزار جاں بحق ہو گئے۔ تب سے مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں جنگ جاری ہے۔ وہیں دوسری طرف امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے۔ وہیں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined