عالمی خبریں

قطر کے راس لفان ایل این جی ہب کو شدید نقصان، بحالی میں پانچ سال لگنے کا خدشہ

قطر کے راس لفان ایل این جی ہب پر حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحالی میں پانچ سال لگ سکتے ہیں، جس سے عالمی گیس سپلائی متاثر اور توانائی بحران مزید گہرا ہونے کا اندیشہ ہے

<div class="paragraphs"><p>راس لفان ایل این جی ہب، قطر / Getty Images</p></div>

راس لفان ایل این جی ہب، قطر / Getty Images

 

دوحہ: قطر میں واقع دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی برآمدی مرکز راس لفان صنعتی کمپلیکس پر حالیہ حملوں کے بعد اس کے ایک اہم حصے کو بند کرنا پڑا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس نقصان کی مکمل مرمت میں پانچ سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ یہ انکشاف ایک بین الاقوامی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں اس صورتحال کو عالمی توانائی کے لیے سنگین چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق اس مرکز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نہ صرف قطر بلکہ پوری دنیا کے لیے گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ راس لفان ایل این جی سپلائی چین کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ اس ہب میں کسی بھی سطح کی بندش عالمی منڈی میں گیس کی دستیابی کو براہ راست متاثر کرتی ہے، جس کے اثرات خاص طور پر ایشیائی ممالک میں زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہر ہفتے بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ آتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سڈنی جیسے بڑے شہر کو ایک سال تک فراہم کی جانے والی توانائی کے برابر کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بحران کی شدت کس حد تک بڑھ سکتی ہے۔

Published: undefined

مزید برآں، عالمی سطح پر کئی ممالک اپنی گیس کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سپلائی پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں خطے میں جاری کشیدگی نہ صرف سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے بلکہ مستقبل قریب میں توانائی کی قیمتوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔

توانائی کے تجزیہ کار ساؤل کاوونک کے مطابق دنیا ایک بڑے گیس بحران کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اگر طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات کئی برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، حتیٰ کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی سپلائی میں تعطل برقرار رہنے کا امکان ہے۔

Published: undefined

ادھر ایشیا کے مختلف حصوں میں پہلے ہی گیس کی کمی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں کھاد سازی، شیشہ سازی اور دیگر صنعتی شعبے ایل این جی پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کمی کے باعث صنعتی پیداوار متاثر ہونے اور معاشی سرگرمیوں میں سست روی آنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر متبادل انتظامات نہ کیے گئے تو یہ بحران عالمی معیشت پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined