برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر (فائل)/ آئی اے این ایس
برطانیہ میں سیاسی بحران کے درمیان برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر عہدے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپنی شرائط پر۔ یو کے میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں لیبر حکومت ووٹروں کی ناراضگی اور داخلی خلفشار سے دوچار ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں ناقص کارکردگی اور کابینی وزراء کے استعفوں نے موجودہ بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
Published: undefined
برطانوی سیاست میں اتھل پُتھل کے درمیان وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے قریبی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ کے ایک رکن نے کہا کہ اسٹارمر وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں لیکن وہ اپنی شرائط پر ایسا کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ موجودہ افراتفری زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی۔ وہ صرف باوقار انداز میں اور اپنی پسند کے مطابق ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کے لیے ٹائم ٹیبل خود بتائیں گے۔
Published: undefined
اسٹارمر انتظامیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے ووٹروں کے عدم اطمینان کے درمیان یوکے کی لیبر حکومت خود کو بحران میں محسوس کررہی ہے۔ پیٹر مینڈیلسن کی تقرری اور بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے لیے بدنام جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے روابط سے لے کر بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی تک، اسٹارمر کے استعفیٰ کے مطالبات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
Published: undefined
تازہ ترین جھٹکا اس وقت لگا جب اسٹارمر کی کابینہ میں سابق ہیلتھ سکریٹری ویس اسٹریٹنگ نے استعفیٰ دے دیا۔ ہفتے کے روز اسٹریٹنگ نے اعلان کیا کہ وہ مستقبل میں لیبر لیڈر شپ کے کسی بھی مقابلے میں اسٹارمر کو چیلنج کریں گے اور وزیر اعظم عہدے کے لیے اپنی دعویداری پیش کریں گے۔ اپنی تقریر کے دوران سابق ہیلتھ سکریٹری نے اسٹارمر سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے آخری وقت کی حد طے کریں۔
Published: undefined
موجودہ افرا تفری کے درمیان کیئر اسٹارمر کی مقبولیت میں بھی تیزی سے گراوم آئی ہے۔ ’یو گو یوکے‘ کے سروے کے مطابق تقریباً 69 فیصد برطانوی شہری لیبر پارٹی کے اس رہنما کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ ’یو گو‘ نے مزید بتایا کہ اسٹارمر اس وقت ریکارڈ پر سب سے کم مقبول وزیر اعظم ہیں۔ کئی لوگ ان کا موازنہ لز ٹرس کے برطانیہ کے وزیر اعظم کے طور پر 49 دنوں کے دور سے کر رہے ہیں۔
Published: undefined
اس کے علاوہ اسٹارمر کی اپنی پارٹی کا بھی ان کی قیادت پر سے بھروسہ اُٹھتا نظر آرہا ہے۔ لیبر پارٹی کے کئی ممبران پارلیمنٹ کو اب خدشہ ہے کہ اگر اسٹارمر کی غیر مقبولیت جاری رہی تو اس سے مستقبل میں لیبر حکومت کی تشکیل کے امکانات خطرے میں پڑ جائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ملک ’ریفارم یو کے‘ کے رہنما نائجل فاریج کی قیادت والے انتہائی دائیں بازو کے گروپ کے ہاتھوں میں چلا جائے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined