عالمی خبریں

اسرائیل کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازے گئے وزیر اعظم نریندر مودی، کہا- ’یہ دونوں ملکوں کی دوستی کے نام‘

وزیر اعظم نریندر مودی کو اسرائیل کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا۔ مودی نے اسے ہندوستان اور اسرائیل کی دوستی کے نام کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشترکہ اقدار اور مضبوط شراکت داری کی علامت ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کو اسرائیل کے دورے کے دوران وہاں کے اعلیٰ ترین اعزاز ’اسپیکر آف دی کنیسٹ میڈل‘ سے نوازا گیا۔ وزیر اعظم نے اس اعزاز کو ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان پائیدار دوستی اور مضبوط تعلقات کے نام کرتے ہوئے اسے دونوں ملکوں کے مشترکہ نظریات اور اقدار کی علامت قرار دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کنیسٹ میڈل حاصل کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے اور وہ اسے عاجزی اور شکرگزاری کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ یہ اعزاز کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ہندوستان اور اسرائیل کی دوستی کی توثیق ہے، جو دونوں قوموں کو مشترکہ راستہ دکھانے والی اقدار کی نمائندگی کرتا ہے۔

Published: undefined

ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے بھی وزیر اعظم کو ملنے والے اس اعزاز پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ’اسپیکر آف دی کنیسٹ میڈل‘ سے نوازا جانا ایک اہم لمحہ ہے اور یہ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے میں ان کے کردار اور عزم کا اعتراف ہے۔

اعزاز حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب بھی کیا اور اس اعزاز پر شکریہ ادا کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے لیے ایک پارلیمانی فارن گروپ تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے ارکانِ پارلیمنٹ کے درمیان رابطوں اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی ارکان کو ہندوستان کے دورے کی دعوت بھی دی اور کہا کہ باہمی گفتگو اور تبادلۂ خیال میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔

Published: undefined

کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے ہندوستان دنیا کی تیز رفتار ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور جلد ہی دنیا کی سرفہرست تین معیشتوں میں جگہ بنانے کی امید رکھتا ہے۔ انہوں نے تجارت میں اضافہ، سرمایہ کاری کے بہاؤ کو مضبوط بنانے اور مشترکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور اسرائیل دونوں قدیم تہذیبیں ہیں اور ان کی فکری روایات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ اسرائیل میں ’’ٹکون اولام‘‘ کا نظریہ دنیا کی اصلاح پر زور دیتا ہے، جبکہ ہندوستان میں ’وسودھیو کٹمبکم‘ پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق یہ دونوں نظریات ذمہ داری کے دائرے کو سرحدوں سے آگے لے جانے کا پیغام دیتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined