
امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے جنگ بندی اعلان کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں شدید اختلافات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو کچھ قانون سازوں نے سفارتکاری کی پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ دیگر نے اسے غیر واضح حکمت عملی اور خطرناک رجحان سے تعبیر کیا ہے۔
اعلان کے مطابق واشنگٹن اور تہران نے دس نکاتی فریم ورک پر کام کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جو عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس پیش رفت کو بعض ریپبلکن رہنماؤں نے امریکی فوجی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
Published: undefined
ریپبلکن رکن کانگریس مورگن گریفتھ نے صدر ٹرمپ کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کی مؤثر کارروائیوں نے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق اس جنگ بندی کا اصل مقصد یہ یقینی بنانا ہونا چاہیے کہ ایران کبھی بھی جوہری صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔
اسی طرح پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس برائن فٹزپیٹرک نے اس پیش رفت کو ایک محتاط مگر ضروری قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سفارتکاری ہمیشہ اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اگر یہ معاہدہ انسانی جانوں کے تحفظ اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے موقع فراہم کرتا ہے تو اسے مثبت سمجھنا چاہیے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی محتاط حمایت کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ کسی بھی نتیجے پر جلد پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اگر سفارتکاری سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں تو اسے ترجیح دی جانی چاہیے، مگر ہر دعوے اور حقیقت کو اچھی طرح پرکھنا لازمی ہے۔
اس کے برعکس کئی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انڈیانا کے رکن کانگریس فرینک مروان نے کہا کہ ایران کے حوالے سے صدر کے یکطرفہ اقدامات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ انہوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق اس تنازع میں امریکہ کے واضح مقاصد نظر نہیں آئے اور اس کا کوئی منطقی انجام بھی سامنے نہیں آ رہا تھا، جبکہ امریکی فوجی اب بھی خطرے میں ہیں۔
Published: undefined
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس کیون کائلی نے بھی کانگریس کے کردار کو نظر انداز کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو کسی بھی صورت میں ایسی پالیسی اختیار نہیں کرنی چاہیے جو دیگر اقوام کو تباہ کرنے کی دھمکی پر مبنی ہو، اور جاری فوجی کارروائیوں پر نگرانی کانگریس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح الاسکا سے سینیٹر لیزا مرکوسکی نے صدر کی بیان بازی کو امریکی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ اندرون ملک بھی امریکی شہریوں کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
ایریزونا کے سینیٹر روبن گالیگو نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی "مکمل تہذیب" کو ختم کرنے کی دھمکی دینا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔
Published: undefined
یہ جنگ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی توانائی بازاروں کو متاثر کیا ہے۔ اس راستے سے دنیا کے ایک بڑے حصے کو تیل کی فراہمی ہوتی ہے، جس میں ہندوستان بھی شامل ہے، جو اس خطے سے تیل کی درآمد پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ امریکی سیاست میں واضح تقسیم کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ایک طرف اسے سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف اسے غیر محتاط اور خطرناک حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ جنگ بندی دیرپا امن کی طرف قدم ثابت ہوتی ہے یا محض ایک عارضی وقفہ۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined