
میدان عرفات میں دعا کرتے حجاج کرام / Getty Images
سعودی عرب میں حج کے روح پرور مناظر اپنے عروج پر ہیں اور میدانِ عرفات میں حج کا رکنِ اعظم ادا کرنے کے بعد لاکھوں عازمین اب اگلے مرحلے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ہندوستانی عازمین سمیت دنیا بھر سے آئے فرزندانِ توحید نے یومِ عرفہ عبادت، دعا، توبہ اور ذکر و اذکار میں گزارا، جہاں لاکھوں ہاتھ اپنے رب کے حضور بلند رہے اور مغفرت و رحمت کی دعائیں کی جاتی رہیں۔
Published: undefined
فی الحال حجاج کرام کی بڑی تعداد مزدلفہ میں موجود ہے، جہاں غروبِ آفتاب کے بعد میدانِ عرفات سے روانگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد وہ مغرب اور عشا کی نمازیں جمع کر کے ادا کرتے ہیں۔ مزدلفہ میں قیام حج کے اہم مراحل میں شامل ہے، جہاں عازمین رات عبادت، ذکر اور آرام میں گزارتے ہیں، جبکہ اگلے دن منیٰ روانگی کے لیے تیاری بھی کرتے ہیں۔ اسی مقام پر رمی جمرات کے لیے کنکریاں بھی جمع کی جاتی ہیں۔
Published: undefined
کل حج کا ایک اور اہم مرحلہ ادا کیا جائے گا۔ عازمین منیٰ پہنچ کر شیطان کو کنکریاں مارنے کی سنت ادا کریں گے، جسے رمی جمرات کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد صاحبِ استطاعت حجاج قربانی کا فریضہ ادا کریں گے، جبکہ بہت سے عازمین حلق یا قصر یعنی بال منڈوانے یا ترشوانے کی سنت بھی ادا کریں گے۔ اس کے بعد مناسکِ حج کے دیگر مراحل مکمل کیے جائیں گے۔
Published: undefined
ہندوستان سے سعودی عرب پہنچے عازمین حج بھی اس روحانی سفر میں پوری عقیدت کے ساتھ شریک ہیں۔ ہندوستانی عازمین کی میدانِ عرفات آمد پہلے ہی مکمل کر لی گئی تھی اور انہیں بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے مقررہ مقامات تک پہنچایا گیا۔ ہندوستانی سفارتی اور انتظامی ٹیمیں بھی عازمین کی رہنمائی اور سہولت کے لیے سرگرم رہی ہیں تاکہ حجاج اپنے مناسک بہتر انداز میں ادا کر سکیں۔
Published: undefined
یومِ عرفہ حج کا سب سے اہم دن تصور کیا جاتا ہے، جس میں دنیا بھر سے آئے مسلمان رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے فرق سے بالاتر ہو کر ایک ہی مقام پر جمع ہوتے ہیں۔ سفید احرام میں ملبوس لاکھوں افراد کی موجودگی اسلامی اخوت، مساوات اور بندگی کا منفرد منظر پیش کرتی ہے۔
حج کا یہ روحانی سفر اب اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں مزدلفہ کی رات کے بعد منیٰ میں عبادات، قربانی اور دیگر مناسک کی ادائیگی کے ساتھ عازمین اپنے اس مبارک سفر کو مکمل کرنے کی جانب آگے بڑھیں گے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز