
غزہ میں تباہی کا منظر / Getty Images
غزہ کی پٹی میں بدھ کے روز اسرائیلی گولہ باری اور فضائی حملوں میں کم از کم 24 افراد جاں بحق ہوگئے۔ طبی حکام کے مطابق اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسپتالوں میں لاشوں اور زخمیوں کی آمد نے ایک بار پھر خطے کی بگڑتی صورت حال کو نمایاں کر دیا۔ جاں بحق افراد میں کئی بچے بھی شامل ہیں، جن میں ایک 11 سالہ بچی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
Published: undefined
غزہ شہر کے طفاح اور زیتون علاقوں میں شدید گولہ باری سے کم از کم 14 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق متعدد رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ جنوبی علاقے خان یونس کے قریب قیزان ابو رشوان میں بے گھر خاندانوں کے خیموں پر حملے میں چار افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح المواصی کے ساحلی خیمہ کیمپ پر فضائی حملے میں دو افراد مارے گئے، جن میں فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے امدادی کارکن حسین حسن حسین السميری بھی شامل ہیں۔
Published: undefined
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں اس کے بکتر بند یونٹوں اور طیاروں نے کارروائی اس وقت کی جب ایک ریزرو افسر مبینہ طور پر معمول کی سرگرمی کے دوران شدید زخمی ہوا۔ فوج کے مطابق یہ واقعہ اسرائیلی کنٹرول والے علاقے کی حد بندی کے قریب پیش آیا۔
مقامی حکام کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک 520 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز ہی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے 54 فلسطینیوں کی لاشیں اور 66 ڈبوں میں انسانی باقیات ریڈ کراس کے ذریعے واپس کیں، جن کا طبی معائنہ کرنے کے بعد انہیں اہل خانہ کے حوالے کیا جائے گا۔
Published: undefined
سات اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں مجموعی طور پر کم از کم 71 ہزار 803 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو نسل کشی قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت ہے۔
ادھر رفح گزرگاہ سے طبی انخلا کے عمل میں بھی شدید رکاوٹیں برقرار ہیں۔ فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے مطابق 18 ہزار سے زائد مریض علاج کے لیے باہر جانے کے منتظر ہیں، مگر یومیہ صرف چند افراد کو اجازت دی جا رہی ہے۔ مغربی کنارے کے شہر اریحا میں بھی ایک 24 سالہ فلسطینی نوجوان اسرائیلی کارروائی میں جاں بحق ہوا، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined