
لبنان میں تباہی کا منظر، تصویر اے آئی
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے ایک گھر پر بمباری کر دی، جس میں لبنان کی خاتون صحافی عمل خلیل شہید ہو گئیں۔ خبروں کی مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ حملہ الطیری گاؤں میں کیا گیا جہاں وہ رپورٹنگ کر رہی تھیں۔ خلیل نے یہاں ایک گھر میں پناہ لے رکھی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس سے پہلے خلیل کی کار کے پاس ایئراسٹرائیک ہوئی تھی، جس میں 2 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد وہ اپنی ساتھی زینب فراز کے ساتھ گھر میں پناہ لینے پہنچی تھیں۔ کچھ وقت بعد اس گھر پر بھی حملہ کیا گیا اور خلیل ملبے میں دب گئیں۔ اس حملے میں خلیل اور ان کی ساتھی سنگین طور سے زخمی ہو گئی تھیں۔
Published: undefined
اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد موقعہ واردات پر ریسکیو ٹیم پہنچی لیکن اسے بھی اسرائیلی بمباری کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے کچھ دیر بعد ہی ریسکیو روکنا پڑا۔ بعد میں لبنانی فوج، سول ڈیفنس اور ریڈ کراس کی مدد سے 6 گھنٹے کی مشقت کے بعد خلیل کی لاش ملبے سے نکالی گئی۔ یہ کام دیر رات مکمل ہوا۔ خلیل 2006 سے ’الاخبار‘ کے لیے کام کررہی تھیں اور جنوبی لبنان میں لگاتار رپورٹنگ میں مصروف تھیں۔ واضح رہے کہ رواں برس لبنان میں اسرائیلی جارحانہ حملوں میں اب تک 9 صحافی شہید ہوچکے ہیں۔
Published: undefined
اس موقع پر لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے خلیل کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں لبنان قانونی جوابدہی طے کرے گا۔ وہیں دوسری طرف اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے میں کچھ لوگوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی جس سے اس کے فوجیوں کو خطرہ ہوا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ صحافیوں کو نشانہ نہیں بناتی ہے اور ریسکیو روکنے کے الزامات غلط ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔ لبنان کے وزیر اطلاعات پال مارکوس نے اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ صحافیوں کا قتل بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
Published: undefined
اسرائیل کی جانب سے تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے مذاکرات ہونے والے ہیں۔ مارچ کے آخر میں جنوبی لبنان پر ہوئے ایک اسرائیلی حملے میں جنگ کی رپورٹنگ کررہے 3 صحافی مارے گئے تھے۔ حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے بتایا کہ اس کا رپورٹر رہا علی شعیب اسرائیلی حملے میں مارا گیا۔ وہیں اسرائیلی آرمی نے کہا کہ اس نے شعیب کو نشانہ بنایا تھا اور اس پر حزب اللہ کا خفیہ ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اسی حملے میں بیروت واقع المیعادین ٹی وی کی صحافی فاطمہ فلونی اور ان کے بھائی محمد فلونی بھی شہید ہوگئے تھے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined